
نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے اراولی پہاڑی سلسلے کی تعریف اور حد بندی میں ممکنہ تبدیلی کو لے کر مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ پی ٹی آئی کی اراولی خطے میں کان کنی کے باعث سسلیکوسس اور سانس کی بیماریوں سے متاثرہ لوگوں کی صورتحال پر مبنی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت اراولی کی نئی تعریف طے کرنے پر ’مصر‘ ہے، تاکہ کان کنی، رئیل اسٹیٹ اور دیگر منصوبوں کے لیے راستہ کھولا جا سکے۔
جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا کہ اراولی کو مودی حکومت کے اقدامات سے ’شدید ترین خطرہ‘ لاحق ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں مضبوط موقف برقرار رکھے گی۔ ان کے مطابق 9 فروری 2027 کو چیف جسٹس آف انڈیا کی ریٹائرمنٹ سے پہلے یہ واضح ہو سکتا ہے کہ اراولی کی تعریف تبدیل کرنے سے متعلق ان اقدامات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے قائم ہائی پاورڈ کمیٹی کا بھی حوالہ دیا، جسے 30 نومبر 2026 تک اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ جے رام رمیش نے امید ظاہر کی کہ کمیٹی مودی حکومت کی جانب سے اراولی کی تعریف تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ’’مزید ماحولیاتی تباہی‘‘ کے واقعات سامنے آ سکتے ہیں۔
جے رام رمیش کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب پی ٹی آئی کی رپورٹ نے راجستھان کے اراولی خطے میں کان کنی سے متاثرہ خاندانوں کی صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔ سیکر ضلع کے سیالودرا گاؤں میں 32 سالہ منجیت کی حال ہی میں سسلیکوسس سے موت ہوئی۔ وہ قریبی پتھر کرشنگ یونٹ میں مزدور تھے اور تین سال سے زیادہ عرصے تک اس لاعلاج پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا رہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق سیالودرا میں سسلیکوسس سے 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
منجیت کی اہلیہ منیشا کے مطابق شوہر کے علاج پر خاندان کی بیشتر جمع پونجی خرچ ہوگئی۔ ان کے گھر میں آج بھی وہ بڑے آکسیجن سلنڈر موجود ہیں جنہیں منجیت سانس لینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ مقامی افراد کے مطابق موت سے قبل وہ روزانہ 12 تک آکسیجن سلنڈر استعمال کرتے تھے، جبکہ ایک سلنڈر کی قیمت تقریباً ایک ہزار روپے تھی۔
سیالودرا کے رہائشی سنجے نے بتایا کہ جولائی میں ان کے بھائی منوج کی بھی سسلیکوسس سے موت ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے چھ افراد اس بیماری سے جان گنوا چکے ہیں۔
2023 میں شائع ایک مطالعے کے مطابق راجستھان کے سرکاری پورٹل پر اس وقت سسلیکوسس کے 23,436 مصدقہ معاملات درج تھے، جن میں 6,876 اموات شامل تھیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق سرکاری اعداد و شمار بیماری کے اصل پھیلاؤ کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، کیونکہ بیماری کی تصدیق کے لیے مریضوں کو متعدد مرتبہ اسپتالوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
کان کنی سے متاثرہ کوٹپتلی-بہروڑ کے جودھ پورہ-موہن پورہ گاؤں میں بھی سانس اور دیگر بیماریوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ 2023 کے ایک سروے میں تقریباً 928 افراد میں سے 478 نے جلدی بیماریوں، سانس کی دشواری، ٹی بی اور آنکھوں میں جلن سمیت مختلف مسائل کی اطلاع دی تھی۔
نیشنل گرین ٹریبونل نے گزشتہ سال راجستھان حکومت کو گاؤں کی بازآبادکاری کے لیے کمیٹی بنانے، 500 میٹر کے اندر دھماکوں پر پابندی لگانے اور الٹرا ٹیک سیمنٹ لمیٹڈ کو صحت سے متعلق نقصان کے لیے 20 ہزار روپے ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بازآبادکاری اور کان کنی پر مؤثر روک اب بھی نہیں ہوئی۔
سپریم کورٹ کی مقرر کردہ اراولی کمیٹی نے 6 سے 11 اگست کے درمیان دہلی، ہریانہ اور راجستھان کے نو اضلاع کا دورہ کیا، تاہم سیالودرا سمیت بعض کان کنی سے متاثرہ علاقوں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ کمیٹی وہاں نہیں پہنچی۔ کمیٹی نے مزید چھ ماہ کی مہلت مانگی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کے لیے 30 نومبر کی آخری تاریخ مقرر کر دی۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے کمیٹی سے اراولی معاملے پر رپورٹ تیار کرنے کے لیے دن رات کام کرنے کو کہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔