قومی خبریں

راجیہ سبھا: ’عآپ‘ کے 7 ارکان کے بی جے پی میں انضمام پر جئے رام رمیش کا حملہ، ای ڈی کارروائیوں پر سوال

راجیہ سبھا میں ’عآپ‘ کے 7 ارکان کے بی جے پی میں انضمام کی منظوری پر جئے رام رمیش نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے لیے تشویش ناک قرار دیا اور ای ڈی کارروائیوں پر بھی سوال اٹھائے

جئے رام رمیش، تصویر آئی اے این ایس
جئے رام رمیش، تصویر آئی اے این ایس 

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے 7 ارکان کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں انضمام کو لے کر سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک خطرناک اشارہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ راجیہ سبھا کے چیئرمین کی جانب سے اس انضمام کو قبول کرنا کوئی حیرت کی بات نہیں، بلکہ حیرت اس بات پر ہے کہ اس میں اتنی دیر کیوں ہوئی۔

Published: undefined

جئے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ اب ہندوستانی جمہوریت میں ’چھوٹی چھوٹی مہربانیاں‘ ہی باقی رہ گئی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جن ارکان پر حال ہی تک بھارتیہ جنتا پارٹی خود بدعنوانی اور دیانتداری سے متعلق سنگین سوال اٹھا رہی تھی، آج وہی ارکان پارٹی میں شامل ہونے کے بعد قابل قبول ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ سیاسی مفاد پرستی کی واضح مثال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ان میں سے کچھ ارکان کے خلاف حالیہ دنوں میں چھاپے مارے جا رہے تھے لیکن اب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسی کارروائیاں رک جائیں گی۔ جئے رام رمیش نے الزام لگایا کہ جو چھاپے ہونے والے تھے، وہ بھی اب نہیں ہوں گے، جس سے پورے عمل پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’سرجیکل اسٹرائک‘ اور ’پری ایمپٹیو ایکشن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’لوٹس اب لوٹس نہیں بلکہ لُوٹس (Lootus) بن چکا ہے‘، جو بدعنوانی کی طرف اشارہ ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب سرکاری سطح پر جاری معلومات کے مطابق، عام آدمی پارٹی کے سات باغی ارکان کے بی جے پی میں انضمام کو راجیہ سبھا سیکریٹریٹ نے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس کے بعد ایوان میں بی جے پی کی عددی طاقت بڑھ کر 113 ہو گئی ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی کے ارکان کی تعداد گھٹ کر محض تین رہ گئی ہے۔ اس پیش رفت کو آنے والے سیاسی حالات، خاص طور پر پنجاب کی سیاست اور 2027 کے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں اہم مانا جا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined