
کانگریس نے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اس افسر کو عہدے پر برقرار رکھا ہے اور وہی کمیشن کے آئی ٹی شعبے کی نگرانی کر رہا ہے، جس کے خلاف 2 الیکشن کمشنروں نے جولائی میں کابینہ سکریٹری سے شکایت کی تھی۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ متعلقہ افسر کو اگست سے الیکشن کمیشن کے آئی ٹی شعبے کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمیشن کی 26 ستمبر کو جاری پریس ریلیز میں اس حقیقت کو چھپا کر گمراہ کن وضاحت دی گئی۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ 2 الیکشن کمشنروں نے کابینہ سکریٹری کو لکھے اپنے خط میں الزام لگایا تھا کہ آئی ٹی شعبہ ’ای سی آئی این ای ٹی‘ ووٹر فہرست نظام تک انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر او) کی رسائی محدود کر رہا ہے اور ووٹر فہرست میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے سلسلے میں ای آر او کے قانونی اختیارات کو نظرانداز کر رہا ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق جولائی میں متعلقہ افسر کے ایک حکم کے بعد آئی ٹی شعبے کی نگرانی کے نظام میں تبدیلی کی گئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی معاملے کو لے کر دونوں الیکشن کمشنروں نے کابینہ سکریٹری سے شکایت کی تھی۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ معاملہ ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) تک بھی پہنچا ہے اور اس محکمے کے انچارج وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور وزیر اعظم نریندر مودی نے متعلقہ افسر کو عہدے پر برقرار رکھا ہے، تاکہ پورے نظام پر مرکز کا کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری مہم ہر روز مزید واضح ہوتی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے 26 ستمبر کو کہا تھا کہ ’ای سی آئی این ای ٹی‘ نظام کے جامع جائزے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور آئی ٹی ماڈیول و پورٹل سے متعلق مستقبل کے اقدامات پر کمیشن کی منظوری سے پہلے افسران کی کمیٹی غور کرے گی۔ کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ کابینہ سکریٹری کو لکھے گئے خط کا تعلق کسی پالیسی سے متعلق معاملے سے نہیں تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔