
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے آئینی عہدے کے وقار، غیر جانب داری اور آزادی کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خصوصی اجلاس بلایا جاتا ہے تو دونوں ایوانوں میں اپوزیشن ارکان ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک لانے کی کوشش کریں گے۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ 24 اپریل 2026 کو اپوزیشن کے 73 ارکان پارلیمنٹ نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے نوٹس دیا تھا، جو ان کے مطابق اب بھی زیر التوا ہے۔ اپریل میں 73 اپوزیشن ارکان نے راجیہ سبھا میں چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کے لیے نوٹس پیش کیا تھا۔ اس میں ’ثابت شدہ بدسلوکی‘ کی بنیاد پر آئینی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار نے مرکزی وزیر داخلہ کے ’آلۂ کار‘ کے طور پر کام کیا ہے اور وزیر داخلہ خود وزیراعظم کی خواہشات کے نفاذ کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے اقدامات وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی مکمل معلومات، حمایت اور ہدایت پر ہوئے۔ انہوں نے اس معاملے کو ’گیانیش گیٹ‘ قرار دیتے ہوئے اس کے پیچھے ’جی2‘ کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا۔ یہ الزامات جے رام رمیش کے سیاسی موقف کا حصہ ہیں۔
جے رام رمیش نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اب عہدے پر برقرار رہنے کا ’انتظامی اور اخلاقی حق‘ کھو چکے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب سپریم کورٹ نے بدھ کو چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے معاملے میں منقسم فیصلہ دیا۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ اس سوال پر مختلف رائے رکھتی تھی کہ معاملہ پانچ رکنی آئینی بنچ کو بھیجا جائے یا نہیں۔ بعد ازاں معاملہ بڑے بنچ کے سامنے رکھنے کا راستہ اختیار کیا گیا۔
2023 کے قانون کے تحت الیکشن کمشنروں کی تقرری والی کمیٹی میں وزیراعظم، وزیراعظم کے نامزد کردہ مرکزی کابینی وزیر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف شامل ہیں۔ اس قانون نے اس وقت کے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ طریقۂ کار میں چیف جسٹس آف انڈیا کی جگہ مرکزی کابینی وزیر کو شامل کیا تھا۔
جے رام رمیش نے مارچ 2023 کے انوپ برنوال بنام یونین آف انڈیا فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس وقت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے وزیراعظم، قائد حزب اختلاف اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کی ہدایت دی تھی۔ ان کے مطابق بعد میں حکومت نے قانون بنا کر اس طریقۂ کار میں تبدیلی کی۔
انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف کی جانب سے ’ووٹ چوری‘ کا معاملہ 15 ماہ سے زیادہ عرصے سے اٹھایا جا رہا ہے اور موجودہ پیش رفت نے ان کے مؤقف کو مزید تقویت دی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے آج اپنے اندرونی اختلافات سے متعلق رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے ارکان کی جانب سے مختلف آرا، سوالات اور تجاویز پیش کرنا معمول کے انتظامی عمل کا حصہ ہے اور حتمی فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔