قومی خبریں

’الیکشن کمیشن کا حلف نامہ گمراہ کن اور دھوکہ دہی پر مبنی‘، جے رام رمیش نے اٹھائے 6 سوال

جے رام رمیش نے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے دائر کردہ حلف نامہ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے فارم 6 میں غیر قانونی ترمیم، یکطرفہ فیصلوں اور ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں پر سوال اٹھائے

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس 

نئی دہلی: کانگریس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) پر انتخابی فہرستوں کی تیاری اور خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں اور قانونی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ شام داخل کیے گئے حلف نامہ کو گمراہ کن، فریب پر مبنی اور متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حلف نامہ خود الیکشن کمیشن کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں الیکشن کمیشن کے حلف نامے پر چھ اہم سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمیشن حقائق کو چھپانے اور اپنی قانونی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 کے ساتھ ایک نیا اعلانیہ منسلک کرنے کے معاملے پر گمراہ کن مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق، پہلے کمیشن نے دعویٰ کیا کہ نئے اعلانیے کو سپریم کورٹ کی حمایت حاصل ہے، لیکن بعد میں عدالت نے اس مؤقف کی تردید کی۔

انہوں نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نیا اعلانیہ الگ ہے اور فارم 6 میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔ تاہم، جے رام رمیش کے مطابق، اس لازمی اعلانیے کو پُر کیے بغیر آن لائن فارم 6 جمع نہیں کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کمیشن نے 26 ستمبر 2026 کو اعلانیے کو فارم 6 کے ساتھ منسلک قرار دیا تھا، لیکن اب اسے فارم کا حصہ تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ طرز عمل رجسٹریشن آف الیکٹورز رولز، 1960 کی خلاف ورزی کو چھپانے کی کوشش ہے۔

کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر سے متعلق اہم احکامات پر تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری کا دعویٰ کرکے اصل صورت حال کو تبدیل کرکے پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق، دیگر دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کے احکامات پر ہونے والی مبینہ قانونی خلاف ورزیوں اور سنگین بے ضابطگیوں پر اعتراضات درج کرائے تھے، لیکن ان اعتراضات کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں کمشنروں کو بعض فیصلوں کی اطلاع تک نہیں دی گئی اور انہیں ان کے بارے میں میڈیا کی خبروں سے معلوم ہوا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ ایسی صورت حال کو اتفاق رائے کے بجائے یک طرفہ فیصلہ سازی کہا جانا چاہیے۔

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ای سی آئی نیٹ کے ذریعے انتخابی فہرستوں پر مرکزی سطح سے کنٹرول قائم کیا گیا اور انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر اوز) کے قانونی اختیارات کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے گوا، مغربی بنگال، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان ریاستوں میں ای آر اوز کے فیصلوں کو تبدیل یا نظر انداز کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کے آئی ٹی ڈویژن کے کام کاج پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق، دونوں الیکشن کمشنروں نے اس ڈویژن کے غیر شفاف طریقۂ کار، اختیارات سے تجاوز اور غیر مجاز اقدامات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کابینہ سکریٹری کو خط لکھا تھا۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ان شکایات کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس ڈویژن کے کام کاج میں کوئی تبدیلی آئی۔

کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران متعدد مقامات پر غیر قانونی اقدامات اور ضابطوں کی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق، تقریباً ہر ریاست میں فارم 7 کا غلط استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوشش کی گئی۔

جے رام رمیش نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں میڈیا کے مختلف حصوں میں سامنے آنے والے انکشافات کی صداقت کی واضح تردید نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال چیف الیکشن کمشنر کے دور میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قانونی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مزید اہم بناتی ہے۔ اپنی پوسٹ کے آخر میں جے رام رمیش نے انگریزی کے ایک معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی دھوکہ دہی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ بالآخر اس کے نتائج سے بچ نہیں سکتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔