قومی خبریں

’جے ڈی یو کے لیے 10 سیٹیں حاصل کرنا بھی ہوگا مشکل‘ پارٹی سے نکالے جانے کے بعد اننت سنگھ کا دعویٰ

اننت سنگھ نے کہا کہ ہمیں کوئی غم نہیں ہے، عوام ہمارے مالک اور بھگوان ہیں۔ پارٹی کی جانب سے جو کارروائی کی گئی ہے، وہ اچھی ہے۔ اس سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں۔

اننت سنگھ
اننت سنگھ تصویر سوشل میڈیا

جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) سے 6 برسوں کے لیے نکالے جانے پر رکن اسمبلی اننت سنگھ کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اننت سنگھ نے پارٹی کے ختم ہونے کا دعویٰ کیا۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اننت سنگھ نے کہا کہ ہمیں کوئی غم نہیں ہے، عوام ہمارے مالک اور بھگوان ہیں۔ پارٹی کی جانب سے جو کارروائی کی گئی ہے، وہ اچھی ہے۔ اس سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں۔ پارٹی نتیش کمار کی تھی، اب نتیش کمار خود ہی پارٹی میں نہیں ہیں۔ کیا وہ پارٹی میں ہیں؟ ہمارا کہنا ہے کہ ہمیں پارٹی سے نکال دیں۔ پارٹی نتیش کمار کی تھی، وہ اب ختم ہو گئے تو پارٹی بھی ختم ہو گئی۔

اننت سنگھ نے کہا کہ جے ڈی یو کے لیے 10 نشستیں جیتنا بھی بڑا چیلنج ہوگا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے خلاف کارروائی کس نے کروائی ہے، پارٹی کا جو مالک ہوگا، اسی نے کارروائی کروائی ہوگی۔ ہم کسی پارٹی میں نہیں جائیں گے، بلکہ اپنی پارٹی بنائیں گے۔ ہماری اسمبلی کی رکنیت کے خلاف بھی کارروائی ہوتی ہے، تو ہمیں کوئی پریشانی نہیں۔ ہم جہاں رہتے ہیں، وہیں رہتے ہیں۔ ہم پارٹی سے ٹکٹ مانگنے نہیں گئے تھے، بلکہ پارٹی نے ہمیں بلا کر ٹکٹ دیا تھا۔ اب پارٹی میں کچھ نہیں بچا ہے۔ اننت سنگھ نے مزید کہا کہ ہم جے ڈی یو کا مستقبل دیکھ رہے ہیں کہ اب یہ ختم ہو چکی ہے۔ جو لوگ وزیر بن کر بیٹھے ہیں، انہیں انتخابات میں پتہ چل جائے گا۔ نتیش کمار سے ہماری کوئی دوری نہیں ہے، ہم ان سے ملاقات کریں گے۔ ان سے ملنے میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔

اننت سنگھ نے کہا کہ نشانت ابھی کیا ہیں؟ عوام کو ہماری طرف سے مبارک باد اور وہ زندہ باد۔ عوام بھگوان اور مالک ہیں۔ جو جیسا کرے گا، عوام اسے جواب دیں گے۔ ہماری غلطی ہوگی تو عوام ہمیں جواب دیں گے اور پارٹی غلط ہوگی تو پارٹی کو جواب دیں گے۔ اننت سنگھ نے کہا کہ نیرج کمار نے پارٹی کو کیا دیا ہے، یہ پارٹی جانے۔ کوئی ہماری فکر نہ کرے۔ ہم نتیش کمار کی کبھی برائی نہیں کریں گے، چاہے ہم کسی بھی پارٹی میں جائیں یا کہیں بھی رہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔