
لداخ، تصویر سوشل میڈیا
مرکز کی مودی حکومت نے فی الحال لداخ کو ریاست یا مقننہ والے مرکز کے زیر انتظام خطہ کا درجہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے لداخ کے لیڈران سے کہا ہے کہ آرٹیکل 371 کے مسودہ سے پہلے لداخ کے مجوزہ سیاسی ڈھانچے سے متعلق 8 سے 10 اہم امور پر غور و خوض کریں اور ان پر اتفاق رائے تک پہنچیں۔ مرکز اور لداخ کی قیادت نے ایک ایسے ’منفرد‘ ماڈل پر کام کرنے سے متعلق اتفاق کیا ہے جو ایک منتخب ادارے کو قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات فراہم کرے گا۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مجوزہ انتظام لداخ کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مترادف نہیں ہوگا۔
گزشتہ بدھ (9 ستمبر) کو نئی دہلی میں وزارت داخلہ کی ذیلی کمیٹی کی میٹنگ میں یہ باتیں رکھی گئیں۔ مرکز اور لداخ کے نمائندوں کے درمیان اگلی میٹنگ اکتوبر کے نصف اول میں ہوگی۔ اس بارے میں لداخ میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں چیف سکریٹری آشییش کندرا نے کچھ اہم جانکاریاں دیں۔ انھوں نے بتایا کہ لداخ کے لیے ایک خصوصی آئینی ڈھانچے کے تحت مرکز کے زیر انتظام خطہ کی سطح پر منتخب ادارہ قائم کرنے کی تجویز پر بات چیت آگے بڑھی ہے۔
ایل اے بی (لیہہ اپیکس باڈی) اور کے ڈی اے (کارگل ڈیموکریٹک الائنس) کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مجوزہ مرکز کے زیر انتظام خطہ کی سطح کے ادارے کے انتخابات لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کے ذریعہ بالواسطہ طور پر کرانے کے بجائے براہ راست انتخابی حلقوں کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔ ایل اے ایچ ڈی سی اور مرکز کے زیر انتظام خطہ کی سطح کے ادارے کے درمیان تعلقات کو لے کر کچھ سوالات ہیں۔ یہ طے ہونا ضروری ہے کہ ایل اے ایچ ڈی سی کے دائرۂ اختیار میں کون سے اختیارات ہوں گے اور مرکز کے زیر انتظام خطہ کی سطح کے ادارے کے دائرۂ اختیار میں کون سے اختیارات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت لداخ پر ایسا کوئی ماڈل مسلط نہیں کرنا چاہتی جو وہاں کے لوگوں کو قابل قبول نہ ہو۔ اصولوں پر اتفاق رائے قائم ہونے کے بعد بل کا قانونی مسودہ تیار کیا جائے گا۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ لداخ کبھی ریاست نہیں تھا۔ یہ نہ تو ریاست ہوگا اور نہ ہی روایتی معنوں میں مقننہ والا مرکز کے زیر انتظام خطہ ہوگا۔
ایل اے بی اور کے ڈی اے کے لیڈران نے وزارت داخلہ کی میٹنگ کو طنز نگار جسپال بھٹی کی میٹنگوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لداخیوں کے اعتماد میں کمی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ دہلی میں جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس میں لداخ کی تنظیموں کے عہدیداروں نے الزام لگایا کہ ذیلی کمیٹی کی میٹنگ کا مقصد 10 ستمبر سے مجوزہ لیہہ سے کارگل پیدل مارچ سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہو سکتا ہے۔ ان کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجی گئی مطالبات کی فہرست پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ پریس کانفرنس میں لیہہ ایپیکس باڈی کے شریک صدر چھیرنگ دورجے، سونم وانگچک، کے ڈی اے کے اصغر علی کربلائی، سجاد کارگلی کے ساتھ لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ جان موجود تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔