
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سپریم کورٹ کی طرف سے حال ہی میں ’فٹ پاتھ پر چلنے کے حق‘ کو بنیادی حق قرار دیے جانے کے فیصلے کی مثال دیتے ہوئے یہ دلیل دی ہے کہ اب ووٹنگ کے حق کو بھی یہ درجہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’جمعہ 19 جون 2026 کو سپریم کورٹ کے 2 ججوں پر مشتمل بنچ نے فٹ پاتھ پر چلنے کے حق کو آئین ہند کے تحت ایک بنیادی حق قرار دیا ہے۔‘‘
Published: undefined
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں جے رام رمیش مزید لکھتے ہیں کہ ’’آئین ساز اسمبلی نے سردار پٹیل کی صدارت میں بنیادی حقوق، اقلیتوں، اور قبائلی و خارج شدہ علاقوں پر ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ 21-22 اپریل 1947 کو ہوئے اس اجلاس میں ووٹنگ کے حق کو بنیادی حق بنانے کے سوال پر بھرپور بحث ہوئی۔‘‘ کانگریس لیڈر کے مطابق ڈاکٹر امبیڈکر اور جگجیون رام نے اس کے حق میں زوردار دلائل پیش کیے۔ دوسری طرف سردار پٹیل، سی راجگوپالاچاری اور کچھ دیگر اراکین کا خیال تھا کہ اگر ووٹنگ کے حق کو بنیادی حق بنا دیا گیا تو ریاستیں ہندوستانی یونین میں شامل ہونے سے ہچکچا سکتی ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ آئین میں بالغ رائے دہی کا انتظام کر دینا ہی کافی ہوگا۔ خود سردار پٹیل کی یہ رائے تھی کہ بالغ رائے دہی اپنے آپ میں ایک بنیادی حق ہے۔ یہی آئین کے دفعہ 326 کا پس منظر ہے، جو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا انتظام کرتا ہے۔
Published: undefined
کانگریس کے جنرل سکریٹری نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’گزشتہ 7 دہائیوں میں اس بات پر لگاتار بحث ہوتی رہی ہے کہ ووٹنگ کا حق، عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت حاصل ایک قانونی حق ہے یا پھر یہ ایک واضح بنیادی حق ہے۔ اس سلسلے میں مختلف آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔ حال ہی میں مارچ 2023 میں دیے گئے ’انوپ برنوال بنام بھارتی یونین‘ کے فیصلے میں جسٹس اجے رستوگی نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا تھا کہ ووٹنگ کا حق ایک بنیادی حق ہے۔‘‘
Published: undefined
جے رام رمیش کے مطابق سپریم کورٹ خود اس بات کو تسلیم کر چکا ہے کہ ووٹرس کو امیدواروں کی مجرمانہ تاریخ، ان کے مالی مفادات اور سیاسی چندے کے ذرائع کے بارے میں جاننے کا آئینی اور بنیادی حق حاصل ہے۔ اس نے بیلٹ پیپر کے راز کی حفاظت کی ہے اور نوٹا کے ذریعے تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کے حق کو بھی تسلیم کیا ہے۔ اس لیے یہ بات اور بھی زیادہ متضاد معلوم ہوتی ہے کہ ووٹنگ کا حق اب بھی محض ایک قانونی حق بنا ہوا ہے۔
Published: undefined
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کے اشارے پر کام کر رہے الیکشن کمیشن آف انڈیا کا کھلا جانبدارانہ طرز عمل پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ ایسے میں اب وقت آ گیا ہے کہ ووٹنگ کے حق کو ایک بنیادی حق کا درجہ دیا جائے، جس سے اسے اعلیٰ ترین سطح کی عدالتی نظرثانی اور تحفظ حاصل ہو سکے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’یہ ایس آئی آر عمل کے تحت مختلف ریاستوں میں بھاری تعداد میں ووٹرس کو دبانے یا ووٹرس کو من مانے طریقے سے نااہل ٹھہرائے جانے کے خلاف حفاظتی اقدامات قائم کرنے کی سمت میں ایک مضبوط قدم ہوگا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سپریم کورٹ کی نگرانی مزید مضبوط ہو جائے گی۔‘‘
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined