قومی خبریں

’نابالغ بچے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکتے، ہدایات جاری کریں‘، سپریم کورٹ نے مرکز کو دیا حکم

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ ہندوستانی قانون کے تحت سبھی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسی ہدایت جاری کرے کہ 18 سال سے کم عمر والے خود سے اپنا اکاؤنٹ نہ بنا سکیں۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

عدالت عظمیٰ نے نابالغوں کے ذریعہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ استعمال کیے جانے پر اپنی فکر ظاہر کی ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے اس معاملہ میں سخت قدم اٹھانے کا حکم بھی دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے نابالغوں کے اکاؤنٹ کو لے کر موجودہ نظام کو صرف گائیڈلائنس تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے ہندوستانی قانون کے تحت اثردار بنایا جائے۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ ہندوستانی قانون کے تحت سبھی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسی ہدایت جاری کرے کہ 18 سال سے کم عمر والے خود سے اپنا اکاؤنٹ نہ بنا سکیں۔ والدین کی نگرانی میں ایک طے عمر کے بعد بھلے ہی انھیں اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دی جائے، لیکن کم عمر بچوں کو یہ اجازت نہ ملے۔ فی الحال انٹرمیڈیٹری رولس میں یہ باتیں کہی گئی ہیں، لیکن اثردار طریقے سے اس نظام کو طے کریں۔

سپریم کورٹ میں ’جسٹ رائٹس آف چلڈرن الائنس‘ کی عرضی پر سماعت کے دوران نابالغوں کے سوشل میڈیا استعمال کو لے کر سیکورٹی ترکیبوں پر بحث ہوئی۔ عرضی دہندہ کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ ایچ ایس پھلکا نے دلیل دی کہ 18 سال سے کم عمر کے بچے آزادانہ طریقے سے کسی کانٹریکٹ میں انٹری نہیں کر سکتے، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے اصولوں اور شرطوں کو قبول کر کے اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت سے اس بات پر غور کرنے کو کہا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے لوگوں کے آزادانہ طور سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ کانٹریکٹ کرنے پر روک کے انتظام کو انٹرمیڈیٹری رولس کے تحت آئینی شکل دی جائے۔ عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے پوری طرح الگ کرنے کی جگہ والدین یا قانونی سرپرست کی رضامندی اور نگرانی میں محدود رسائی کا انتظام ہو۔

قابل ذکر ہے کہ موجودہ انٹرمیڈیٹری اصولوں کے تحت سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے کئی اصول ہیں، لیکن عرضی میں الزام ہے کہ نابالغوں کے اکاؤنٹ بنانے کو روکنے کے لیے کوئی اثردار اور یکساں عمر کا ویریفکیشن نظام نہیں ہے۔ عدالت نے پہلے بھی نابالغوں کی آن لائن سیکورٹی کو لے کر گائیڈلائنس کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ستمبر میں سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ ہندوستان میں اس سلسلے میں سیکورٹی ترکیب ہونی چاہئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔