قومی خبریں

’آن لائن کوچنگ میں سرکاری وسائل لگانا جواب دہی سے بچنے کی ’نوٹنکی‘، جے رام رمیش کا مودی حکومت پر حملہ

کانگریس نے آن لائن کوچنگ میں سرکاری وسائل کے استعمال پر مودی حکومت کو نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش نے مفت کوچنگ اسکیم کے اہداف پورے نہ ہونے کو حکومت کی ناکامی قرار دیا

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس 

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کے اعلان پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک کے درہم برہم تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر درست کرنے اور سرکاری تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جو جوابدہی سے بچنے کی ایک نوٹنکی ہے۔

جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے 17 جون 2026 کو کوٹا میں منعقدہ ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم ترین مسائل میں سے ایک کو اٹھایا تھا۔ ان کے مطابق راہل گاندھی نے نشاندہی کی تھی کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے سرکاری تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے۔

جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ آج ہندوستانی خاندان کوچنگ مراکز پر مرکزی حکومت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں کیے جانے والے مجموعی اخراجات کے مقابلے میں 2.5 گنا زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیر اعظم نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی ’مایوس کن کوشش‘ میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا۔

تاہم کانگریس رہنما نے اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی حکومت کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کے سابقہ ریکارڈ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی موجودہ مفت کوچنگ اسکیم گزشتہ تین برسوں سے مسلسل اپنے مقررہ ہدف سے پیچھے چل رہی ہے۔

جے رام رمیش کے مطابق سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت کو تین برسوں کے دوران مفت کوچنگ کے لیے 10,500 امیدواروں کا اندراج کرنا تھا، لیکن اب تک صرف 2790 طلبہ ہی اس اسکیم میں داخل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعداد مقررہ ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس اسکیم کے لیے مختص بجٹ میں ہر سال کمی واقع ہوئی ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا جانے والا حقیقی خرچ مقررہ بجٹ کے نصف سے بھی کم تھا۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ یہ چونکا دینے والے حقائق سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت سے متعلق پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو درپیش بنیادی مسائل کو حل کرنے، اسے مضبوط بنانے یا سرکاری تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے وزیر اعظم نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جے رام رمیش نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو کوچنگ پر بڑھتے انحصار کا حل سرکاری وسائل کو مزید آن لائن کوچنگ میں منتقل کرنے میں نہیں، بلکہ سرکاری تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر بہتر بنانے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے میں تلاش کرنا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔