قومی خبریں

مغربی ایشیا میں جاری بحران پر سیاست کرنے کی جگہ حل نکالا جانا چاہیے، ہمیں متحد رہنا ضروری: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے کہا کہ جیسے جیسے جنگ آگے بڑھ رہی ہے، مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ آج لوگوں کو گیس سلنڈر نہیں مل رہا۔ ایسے ہی چلتا رہا تو پٹرول و ڈیزل کی دستیابی بھی متاثر ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>پرینکا گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

پرینکا گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ جنگ جیسے سنگین ایشو پر سیاست کرنا ٹھیک نہیں ہے، بلکہ اس معاملہ میں ملک کو متحد رہنا چاہیے اور برسراقتدار طبقہ کو مسئلہ کا حل نکالنا چاہیے۔ پرینکا نے واضح کیا کہ اس معاملے میں پورا ملک ایک ساتھ کھڑا ہے، لیکن حکومت موجودہ بحران کا ضروری حل پیش کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

Published: undefined

پرینکا گاندھی نے یہ بیان پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کا خواہش مند ہے تاکہ سبھی فریق مل کر بحران سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم مغربی ایشیا میں جاری جنگ پر ایوان میں بحث چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایوان میں اس معاملہ پر تبادلہ خیال ہو، ہم اپنے مشورے رکھیں اور ساتھ میں کوئی حل تلاش کریں۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’جیسے جیسے جنگ بڑھ رہی ہے، مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ آج لوگوں کو گیس سلنڈر نہیں مل رہا۔ ایسے ہی چلتا رہا تو پٹرول اور ڈیزل کی دستیابی بھی متاثر ہوگی۔‘‘

Published: undefined

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مودی حکومت سے 2 اہم سوالات بھی پوچھے تاکہ عوام کو حکومت کی تیاریوں کا پتہ چل سکے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’’اس توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے؟ اور ہمارے لوگوں کو جنگ والی جگہوں سے نکالنے کے لیے کیا قدم اٹھائے جا رہے ہیں؟‘‘ موجودہ حالات میں عوام کو ہو رہی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رسوئی گیس سلنڈر کی قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ عام لوگوں کے لیے اسے خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی کا براہ راست اثر اب غریب اور متوسط طبقہ پر پڑنا شروع ہو گیا ہے، اس سے ان کی روزمرہ کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined