
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب ہندوستان میں عام لوگوں کی جیبوں پر واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ ہفتے (23 مئی) کے روز ایک بار پھر پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ پٹرول کی قیمت میں 87 پیسے فی لیٹر، ڈیزل میں 91 پیسے فی لیٹر اور سی این جی میں ایک روپیہ فی کلو کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ 10 دنوں میں یہ تیسری بار ہے جب پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوئے ہیں۔ اس پر کانگریس نے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
Published: undefined
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا کہ ’’مہنگائی مَین مودی نے پٹرول-ڈیزل پر 9 روز میں 5 روپے بڑھا دیے۔ آج پھر پٹرول 94 پیسے اور ڈیزل 95 پیسے مہنگا کر دیا گیا۔‘‘ پارٹی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’مودی کو بس تیل کمپنیوں کے فائدے کی فکر ہے۔ ایک طرف جہاں دنیا بھر کی حکومتیں اپنی عوام کو راحت دے رہی ہیں، وہیں مودی حکومت عوام کو ہی لوٹنے میں مصروف ہے۔ کبھی تو عوام کی بھلائی کے بارے میں سوچ لو، کب تک سرمایہ داروں کا فائدہ کراتے رہوگے؟‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ سرکاری تیل کمپنیوں نے ہفتے کے روز پٹرول کی قیمت میں 87 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 91 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ 10 دنوں میں مجموعی طور پر، قیمتوں میں تقریباً 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ہفتے کے روز ہونے والے اس اضافے کے بعد قومی راجدھانی دہلی میں پٹرول کی قیمت 99.51 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 92.49 روپے فی لیٹر ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 10 دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں یہ تیسرا اضافہ ہے۔ 15 مئی کو قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد 19 مئی کو 80 پیسے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 98.64 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 91.58 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined