قومی خبریں

مہنگائی 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر، گاؤں کی تھالی سب سے زیادہ مہنگی: اجے ماکن

اجے ماکن نے دعویٰ کیا کہ ستمبر 2026 میں مہنگائی 5.54 فیصد کے ساتھ 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ غذائی مہنگائی 7.74 فیصد رہی، جبکہ دیہی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا 8.06 فیصد مہنگی ہوئیں

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے قومی خزانچی اجے ماکن / تصویر ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس کے قومی خزانچی اجے ماکن / تصویر ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اجے ماکن نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو لے کر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر 2026 میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.54 فیصد ہو گئی، جو گزشتہ 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ ماکن کے مطابق، ملک میں نومبر 2025 سے ستمبر 2026 تک مسلسل 11 ماہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ درج کیا گیا، جو جنوری 2012 میں شروع ہونے والی وزارت شماریات کی سیریز میں اب تک کا سب سے طویل سلسلہ ہے۔

اجے ماکن نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں وزارت شماریات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری 2026 میں مہنگائی کی شرح 2.74 فیصد تھی، جو اگست میں بڑھ کر 4.83 فیصد اور ستمبر میں 5.54 فیصد تک پہنچ گئی۔ ان کے مطابق، حکومت نے مہنگائی کا ہدف 4 فیصد مقرر کر رکھا ہے، لیکن جون سے مسلسل ہر ماہ مہنگائی کی شرح اس ہدف سے زیادہ رہی ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ عام لوگوں کو سب سے زیادہ پریشانی کھانے پینے کی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران غذائی مہنگائی کی شرح 7.74 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ 21 ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔ غذائی مہنگائی میں بھی مسلسل 11 ماہ سے اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔

اجے ماکن نے دیہی علاقوں کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں ایک سال میں 8.06 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ وہیں، دیہی علاقوں میں مجموعی مہنگائی کی شرح 6.08 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

کانگریس لیڈر نے پیاز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں پیاز کی قیمت 108.09 فیصد بڑھ گئی، یعنی اس کی قیمت دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ دیہی خاندانوں اور ان کی باورچی خانوں پر پڑ رہا ہے۔

اجے ماکن نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے مہنگائی سے متعلق اندازے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک نے اکتوبر سے دسمبر کی سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح 6 فیصد رہنے کا تخمینہ پیش کیا ہے، جو اس کے مقررہ دائرے کی بالائی حد ہے۔

کانگریس لیڈر نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی سب سے گہری چوٹ دیہی علاقوں کے لوگوں کو برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق، گاؤں کی تھالی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہو گئی ہے۔

اجے ماکن نے اپنی دوسری پوسٹ میں بھی انہی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی سب سے زیادہ مار دیہی باورچی خانوں پر پڑی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔