
کانگریس کا جسٹس مارچ
مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پینے کا پانی استعمال کرنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جس کے بعد شہر کی سیاست میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ اس معاملے پر اتوار کو مدھیہ پردیش کانگریس نے شہر میں جسٹس مارچ نکالا اور ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ اندور میونسپل کارپوریشن پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہو اور لاپرواہی کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
Published: undefined
یہ مارچ بڑے گنپتی چوک سے شروع ہو کر تاریخی راجواڑہ تک نکالا گیا۔ مارچ کی قیادت مہیلا کانگریس کی کارکنوں نے کی، جس میں صوبائی کانگریس صدر جیتو پٹواری، سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ، قائد حزب اختلاف اُمنگ سنگھار اور پارٹی کے کئی سینئر رہنما شریک ہوئے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
مارچ کے دوران دگ وجے سنگھ اور امنگ سنگھار ایک گاڑی کی چھت پر کھڑے ہو کر عوام سے خطاب کرتے نظر آئے۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ اندور میں میونسپل کارپوریشن سے لے کر پارلیمنٹ تک بی جے پی کا کنٹرول ہے، اس لیے ذمہ داری سے فرار ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور کانگریس گھر گھر جا کر عوام کو حقیقت سے آگاہ کرے گی۔
Published: undefined
قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے الزام لگایا کہ حکومت اصل اموات کی تعداد چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور شہر کے بعض علاقوں میں اب بھی آلودہ پانی سپلائی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی مانگنا کوئی خیرات نہیں بلکہ شہریوں کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کی پامالی پر قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
جیتو پٹواری نے کہا کہ بی جے پی گزشتہ 20 برسوں سے ریاست کی اقتدار میں اور 24 برسوں سے میونسپل کارپوریشن پر قابض ہے۔
Published: undefined
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس شہر کو ملک کا سب سے صاف شہر کہا جاتا ہے، وہ اپنے شہریوں کو صاف پینے کا پانی کیوں فراہم نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے میئر کے استعفے کا مطالبہ کیا اور وزیر اعلیٰ موہن یادو سے عوامی معافی کا مطالبہ بھی کیا۔
کانگریس نے اعلان کیا کہ وہ اندور کے شہری علاقوں میں واٹر آڈٹ کرے گی، مختلف مقامات سے پانی کے نمونے لے کر رپورٹ تیار کی جائے گی اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا، جبکہ پانی کے معیار پر بیداری مہم بھی چلائی جائے گی۔
Published: undefined