
بندرگاہ، تصویر سوشل میڈیا
مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ہندوستان جون 2026 میں روس سے اب تک کا سب سے زیادہ خام تیل خرید سکتا ہے۔ شعبۂ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں ماہ ہندوستان پہنچنے والے روسی خام تیل سے لدے ٹینکروں کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اگر یہی رفتار جاری رہی تو جون میں روس سے تیل کی درآمد کا نیا ریکارڈ قائم ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
امریکی توانائی کے ماہر اور این جی پی انرجی کیپیٹل منیجمنٹ کے چیف اکانومسٹ انس الحاجی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی ہندوستانی بندرگاہوں پر اتنی بڑی تعداد میں روسی خام تیل کے ٹینکرز نہیں دیکھے۔ انہوں نے ایک نقشہ بھی شیئر کیا جس میں ہندوستان کی مختلف بندرگاہوں کی جانب بڑی تعداد میں روسی تیل لے کر آ رہے جہاز دکھائی دے رہے ہیں۔
Published: undefined
روس سے تیل کی درآمدات میں یہ اضافہ یوکرین جنگ کے بعد شروع ہوا۔ اس جنگ کے بعد امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ نتیجتاً روس نے اپنا خام تیل کم قیمت پر فروخت کرنا شروع کر دیا۔ ہندوستان نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور کم قیمتوں پر بڑی مقدار میں روسی تیل خریدنا شروع کر دیا۔ سستے روسی خام تیل کی خریداری سے ہندوستان کو کئی فائدے ہوئے ہیں۔ اس سے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی ریفائنری کمپنیوں کے منافع میں بھی اضافہ ہوا ہے، کیونکہ انہیں کم قیمت پر خام تیل مل رہا ہے۔
Published: undefined
سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (سی آر ای اے) کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں ہندوستان، روس سے خام تیل کا دوسرا سب سے بڑا خریدار تھا۔ مئی میں ہندوستان نے روس سے تقریباً 5.8 ارب یورو (تقریباً 6.7 ارب ڈالر) کا تیل اور دیگر ایندھن خریدے۔ اس میں صرف خام تیل کی حصہ داری تقریباً 83 فیصد رہی جس کی مالیت تقریباً 4.8 ارب یورو تھی۔
Published: undefined
اس کے علاوہ کموڈٹی ڈیٹا اور تجزیہ کرنے والی کمپنی ’کے پی ایل ای آر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان نے جون میں اب تک تقریباً 26 لاکھ بیرل (2.6 ملین بیرل یومیہ) روسی خام تیل درآمد کر چکا ہے۔ یہ اب تک کی سب سے اونچی سطح مانی جارہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور روس سے تیل کی خریداری پر امریکی چھوٹ کا ختم ہونا ہے۔
Published: undefined
اس عرصے کے دوران کئی بڑی ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل کی سپلائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں گجرات میں واڈینار، جام نگر، نیو منگلور، وشاکھاپٹنم اور پارادیپ ریفائنری شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پارادیپ ریفائنری نے گزشتہ 2 سالوں میں سب سے زیادہ روسی خام تیل حاصل کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں ہندوستان کی خام تیل کی کل درآمدات میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ صرف روس سے خام تیل کی خریداری میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
Published: undefined
روسی تیل کی برآمد کے حوالے سے مئی میں چین سب سے بڑا خریدار تھا۔ روس کی کل خام تیل کی برآمدات میں چین کا حصہ 50 فیصد ہے۔ ہندوستان 36 فیصد حصہ داری کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، اس کے بعد ترکیہ 6 فیصد اور یورپی یونین (ای یو) 5 فیصد حصہ داری کے ساتھ رہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک روس رعایتی قیمتوں پر تیل فروخت کرتا رہے گا، ہندوستان اپنا خام تیل خریدنا جاری رکھ سکتا ہے۔ اس سے ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور تیل کی درآمدی لاگت کو کم رکھنے میں مدد ملے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined