
آبنائے ہرمز: فائل فوٹو
مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ دن بدن خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے شدید حملوں سے پیدا ہوئی جنگ کے بعد ایران بھی سخت جوابی کارروائی کر رہا ہے۔ میزائلوں اور ڈرونز کی گھن گرج کے درمیان جنگ اب اپنے 15ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور پورے خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ اس خوفناک ہوئی صورتحال کے درمیان ایران نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جس کی زد میں ایک ہندوستانی جہاز بھی آیا ہے۔ جہازمیں 34 رکنی عملہ ہے اور یہ 36 لاکھ گھریلو گیس سلنڈر (ایل پی جی) لے کر آرہا تھا۔
Published: undefined
جاری تنازعہ کے درمیان مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے پیش نظر جہاز کے کپتان وریندر وشوکرما اور ان کا عملہ ہندوستانی حکومت سے مدد کے لیے مسلسل فریاد کر رہا ہے۔ بتا دیں کہ یہ جہاز کویت کی مینا الاحمدی بندرگاہ سے گجرات کی دین دیال کانڈلا بندرگاہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ تاہم 28 فروری سے اس سمندری راستے پر عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے جہاز آگے نہیں بڑھ سکا۔ فی الحال یہ جہاز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے قریب مینا صقر بندرگاہ کے علاقے میں لنگر انداز ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔
Published: undefined
اس دوران جہاز سے بھیجے گئے پیغام میں کیپٹن وریندر نے بتایا ہے کہ میزائل اور ڈرون ہمارے اوپر سے اڑ رہے ہیں۔ ہر طرف سائرن بج رہے ہیں اور ہر لمحہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ خوفناک ہو سکتا ہے۔ ہم صرف انڈین نیوی کے سیکورٹی دستے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ محفوظ اپنے وطن لوٹ سکیں۔
Published: undefined
دریں اثنا ممبئی کے دہیسر میں رہائش پذیر کپتان وریندر کا خاندان خوف اور پریشانی میں جی رہا ہے۔ ان کی بیوی نلپا وشوکرما نے کہا کہ وہ کئی راتوں سے سو نہیں پا رہی ہیں۔ ان کا بیٹا ویدانش (10) اور بیٹی نروی (12) اپنے والد کی واپسی کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کنکشن نہ ہونے کی وجہ سے باقاعدہ رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے، جس سے ان کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ غور طلب ہے کہ جہاز میں صرف 60 دن کا راشن بچا ہے۔ شپنگ کمپنی جی ای ایس سی او اور متعلقہ وزارت ہندوستانی بحریہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ کپتان اور ان کے اہل خانہ کا یہی مطالبہ ہے کہ ہندوستانی بحریہ انہیں جلد از جلد بحفاظت وطن واپس لائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined