عبدالرحیم (بائیں)، تصویر سوشل میڈیا
سعودی عرب میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے کیرالہ کے ضلع کوژیکوڈ باشندہ عبد الرحیم آخرکار 20 سال بعد اپنے وطن واپس لوٹ آئے۔ عیدالاضحیٰ کے دن، یعنی جمعرات کو جب وہ کیرالہ پہنچے تو ایئرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اہل خانہ، دوستوں اور مقامی لوگوں نے طویل انتظار کے بعد ان کی واپسی پر جذباتی مناظر پیش کیے۔ عبد الرحیم کی رہائی 34 کروڑ روپے یعنی تقریباً ڈیڑھ کروڑ سعودی ریال بطور ’بلڈ منی‘ (خون بہا) جمع ہونے کے بعد ممکن ہو سکی۔
Published: undefined
عبدالرحیم جب ایئرپورٹ پر پہنچے تو وہاں ان کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ ایئرپورٹ پر میڈیا نمائندوں اور مقامی باشندوں کی بھیڑ جمع دیکھنے کو ملی۔ معروف تاجر بوبی چیمنور نے عبدالرحیم کو گلے لگا کر خوش آمدید کہا۔ عبد الرحیم نے لوگوں کی جانب ہاتھ ہلا کر شکریہ ادا کیا اور انگوٹھا دکھا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ان تمام لوگوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میری مدد کی۔‘‘
Published: undefined
ایئرپورٹ سے سیدھے اپنے گھر پہنچنے پر عبدالرحیم کا خاندان اور مقامی لوگوں نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔ گھر پہنچتے ہی وہ اپنی والدہ سے لپٹ کر زار و قطار رونے لگے۔ برسوں بعد بیٹے کو سامنے دیکھ کر ماں بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ عبد الرحیم بار بار اپنی والدہ کو گلے لگاتے اور ان کی پیشانی چومتے دکھائی دیے۔ اس دوران وہاں موجود کئی لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ عبد الرحیم کی وطن واپسی عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہوئی، جس سے خاندان اور علاقے کے لوگوں کی خوشی مزید بڑھ گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ عید کے موقع پر عبدالرحیم کی واپسی پورے علاقے کے لیے سب سے بڑی خوشی بن گئی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ عبدالرحیم تقریباً 20 سال قبل روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گئے تھے۔ 2006 میں ان پر ایک خصوصی ضرورتوں والے سعودی بچے کی دیکھ بھال کے دوران مبینہ طور پر حادثاتی موت کا الزام لگا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں 2018 میں سعودی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی، کیونکہ متاثرہ خاندان نے انہیں معاف کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
Published: undefined
عبدالرحیم کی جان بچانے کا واحد راستہ خون بہا کی ادائیگی تھا۔ اس کے لیے 18 اپریل 2024 تک 34 کروڑ روپے جمع کرنا ضروری تھا۔ کیرالہ کے لوگوں اور مختلف سماجی تنظیموں نے مل کر یہ خطیر رقم جمع کی۔ اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں عبد الرحیم کی پھانسی ٹل گئی اور وہ آخرکار 2 دہائیوں بعد اپنے گھر واپس آ سکے۔ عبد الرحیم نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے ہمیشہ ممنون رہیں گے جنہوں نے انہیں دوبارہ اپنی ماں سے ملانے میں مدد کی۔ ان کی واپسی پر پورے علاقے میں جشن جیسا ماحول دیکھنے کو ملا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined