
جئے رام رمیش / آئی اے این ایس
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ انٹرویو پر ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت حملہ کیا ہے۔ کانگریس کے مطابق وزیر اعظم اس بات کو جانتے ہیں کہ رواں سال کا مرکزی بجٹ پوری طرح سے مایوس کرنے والا رہا ہے اور اس سے حکومت کی پالیسیوں میں تھکن کی سبھی علامتیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔
دراصل وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 فروری کو ملک کے مرکزی بجٹ 2026 اور ہند-امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ سے متعلق خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو انٹرویو دیا ہے۔ اس انٹرویو کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر اور جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ان پر طنز کستے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ بڑھتے دباؤ اور تنقید کے درمیان وزیر اعظم اب ہیڈلائن مینجمنٹ کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ ملک کے لاکھوں لاکھ کسانوں اور دیگر طبقات کے لوگوں کی توجہ بھٹکانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔‘‘ انھوں نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے تعلق سے صاف لفظوں میں کہا کہ ’’اس معاہدہ میں حکومت نے ہندوستانیوں کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔‘‘
جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کا انٹرویو کوئی حقیقی انٹرویو نہیں تھا، بلکہ یہ بڑے احتیاط کے ساتھ لکھا ہوا اور منصوبہ بند پی آر ایکسرسائز ہے۔ وہ طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’موجودہ حالات میں وزیر اعظم جھکے بھی ہیں اور تھکے بھی ہیں۔‘‘ مرکزی بجٹ کے تعلق سے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’مرکزی بجٹ کو بازاروں سے منفی رد عمل ملا ہے اور سرمایہ کاروں پر بھی اس کا کوئی خاص مثبت اثر دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ اسی وجہ سے بجٹ پیش ہونے کے تقریباً 2 ہفتہ اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی طرف سے سخت تنقید کے کچھ دنوں بعد وزیر اعظم کو اس سلسلے میں انٹرویو دینا پڑا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کا بیان ہمیشہ کی طرح صرف اثردار نظر آنے والے ’وَن لائنر‘ تک ہی محدود ہے، جس کا زمینی حقیقت سے رشتہ ’نہ کے برابر‘ ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined