قومی خبریں

عالمی سطح پر ’تیل بحران‘ کے درمیان بنگلہ دیش کو 5000 ٹن ڈیزل فراہم کرے گا ہندوستان

بنگلہ دیش پٹرولیم کارپوریشن (بی پی سی) کے چیئرمین نے کہا کہ ’’آج آنے والی کھیپ 5000 ٹن کی ہے اور امید ہے کہ آئندہ 2 ماہ کے اندر 6 ماہ کے لیے طے شدہ ڈیزل کی مقدار ملک میں درآمد کر لی جائے گی۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ہندوستان پائپ لائن کے ذریعہ بنگلہ دیش کو 5000 ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔ یہ کھیپ منگل (10 مارچ) کو پاربتی پور سرحد کے راستے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی امید ہے۔ یہ سپلائی اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت ہندوستان ہر سال پائپ لائن کے ذریعہ بنگلہ دیش کو 180000 ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔ بنگلہ دیش پٹرولیم کارپوریشن (بی پی سی) کے چیئرمین محمد رضان الرحمٰن نے بتایا کہ موجودہ کھیپ اسی معاہدہ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ کے مطابق 6 ماہ کے اندر 90000 ٹن ڈیزل بنگلہ دیش کو درآمد کرنا چاہیے۔

Published: undefined

بی پی سی کے چیئرمین نے کہا کہ آج آنے والی کھیپ 5000 ٹن کی ہے اور امید ہے کہ آئندہ 2 ماہ کے اندر 6 ماہ کے لیے طے شدہ ڈیزل کی مقدار ملک میں درآمد کر لی جائے گی۔ یہ سپلائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بنگلہ دیش میں تاجروں کے ذریعہ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور بازار میں ہیرا پھیری کے متعلق تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ تاجر غیر قانونی طور پر ایندھن جمع کر کے مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہیں۔

Published: undefined

بنگلہ دیش کی وزارت توانائی نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے گاڑیوں کے زمروں کی بنیاد پر ایندھن کی سپلائی کی حد مقرر کر دی ہے، تاکہ مصنوعی قلت کی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔ حالانکہ کچھ پٹرول پمپوں پر طے شدہ حدود سے زائد ایندھن فروخت کیے جانے اور اضافی اسٹاک جمع کر منافع کمانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

Published: undefined

وزارت توانائی نے بتایا کہ ایندھن کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور طے شدہ حدود سے زائد فروخت روکنے کے لیے موبائل کورٹ مہم چلائی گئی۔ اس دوران ایک ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے ڈھاکہ کے مختلف فیول اسٹیشنوں پر کارروائی کی۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سٹی فلنگ اسٹیشن پر ایندھن دستیاب نہیں تھا، جبکہ کلین فیول اسٹیشن قوانین کے مطابق کام کر رہا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined