
پاکستانی ایئر اسپیس (فضائی حدود) پر طویل عرصے سے جاری پابندی کے درمیان ہندوستان اب مغربی ممالک کے لیے پروازوں کا نیا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ اس کے لیے ہندوستان اور چین کے درمیان شنجیانگ واقع ہوتان کے راستے ایئر روٹ فراہم کرنے کو لے کر بات چیت چل رہی ہے۔ شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ حالانکہ نیا روٹ کب تک شروع ہوگا، اس کی ٹائم لائن ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔ دراصل اپریل 2025 سے پاکستان کا ایئر اسپیس ہندوستانی طیاروں کے لیے بند ہے۔ اس کی وجہ سے دہلی اور ممبئی سے یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکہ جانے والی پروازوں کو پاکستان سے بچتے ہوئے بحیرہ عرب اور مسقط کی طرف سے طویل راستہ لینا پڑ رہا ہے۔ اس سے کئی پروازوں کے وقت میں تقریباً 45 منٹ سے 2 گھنٹے تک تک کا اضافہ ہوا ہے اور ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ صرف پاکستان نے اپنا ایئر اسپیس ہندوستان کے لیے بند کر رکھا ہے بلکہ ہندوستان نے بھی ’آپریشن سندور‘ کے وقت سے ہی پاکستانی طیاروں کے لیے اپنا ایئر اسپیس بند کیا ہوا ہے۔ مجوزہ نظام میں دہلی اور ممبئی جانے والی پروازوں کو لیہ کی سمت میں لے جایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد طیارہ چین کے ہوتان کے راستے چینی ایئر اسپیس میں داخل ہوں گے اور آگے وسطی ایشیا کی سمت سے یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکہ جانے والے موجودہ ایئر روٹ سے جڑ سکتے ہیں۔ اگر یہ روٹ پرواز کے لیے منظور ہوتا ہے تو ہندوستانی ایئرلائنز کو پاکستان کے ایئر اسپیس پر منحصر رہنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی ایئر اسپیس بند ہونے سے قبل تقریباً 100 سے 150 ہندوستانی طیارے روزانہ اس کے ایئر اسپیس سے گزرتے تھے۔ اب ان طیاروں کو متبادل راستوں سے جانا پڑ رہا ہے۔ طویل روٹ کا اثر خاص طور پر ایئر انڈیا جیسی ایئر لائنز کی طویل دوری کی پروازوں پر پڑا ہے۔ ایئر انڈیا کے سابق سی ای او کیمپبیل ولسن نے 2025 میں اندازہ لگایا تھا کہ پاکستان کے ایئر اسپیس بند ہونے سے ایئر لائن کو تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایئر اسپیس تنازعہ نیا نہیں ہے۔ 26 فروری 2019 کو بالاکوٹ ایئر اسٹرائک کے بعب پاکستان نے اپنا ایئر اسپیس بند کر دیا تھا۔ تقریباً 5 ماہ بعد ہندوستانی طیاروں کے لیے ایئر اسپیس دوبارہ کھولا گیا تھا۔ اس دوران بھی ہندوستانی ایئر لائنز کو طویل متبادل راستہ اپنانا پڑا تھا۔ ایئر انڈیا کو تقریباً 491 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا، جبکہ تمام ہندوستانی ایئر لائنز کا مجموعی نقصان 550 کروڑ روپے سے زیادہ بتایا گیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔