قومی خبریں

خلیجی خطے میں ہندوستانی جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح، 24 گھنٹے ہیلپ لائن فعال: وزارتِ خارجہ

وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں ہندوستانی ملاحوں اور ہندوستانی پرچم والے جہازوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تمام سفارتی مشن 24 گھنٹے ہیلپ لائن اور مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں ہندوستانی ملاحوں (سی فیررز) اور ہندوستانی پرچم والے جہازوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے خلیجی ممالک میں موجود ہندوستانی سفارتی مشن مقامی حکام، شپنگ وزارت اور سمندری اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امداد فراہم کی جا سکے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ حکومت بین الاقوامی سمندری راستوں پر کام کرنے والے ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلیجی خطے میں تعینات تمام ہندوستانی مشن شپنگ وزارت، متعلقہ ممالک کے میری ٹائم حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، تاکہ اگر کسی ہندوستانی ملاح یا ہندوستانی پرچم والے جہاز کو مدد درکار ہو تو فوری کارروائی کی جا سکے۔

رندھیر جیسوال نے بتایا کہ بیرونِ ملک موجود ہندوستانی سفارتی مشنوں نے 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائنیں بھی قائم کر رکھی ہیں۔ ان ہیلپ لائنوں کے ذریعے نہ صرف ملاح بلکہ ضرورت مند دیگر ہندوستانی شہری بھی کسی بھی وقت مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہیلپ لائنیں گزشتہ کئی ماہ سے بلا تعطل کام کر رہی ہیں اور آئندہ بھی اپنی خدمات جاری رکھیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان حکومت شپنگ وزارت اور مغربی ایشیا و خلیجی ممالک کے مقامی حکام کے ساتھ مل کر بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں محفوظ، آزاد اور بلا رکاوٹ جہاز رانی اور تجارتی سرگرمیوں کی مسلسل حمایت کرتی رہی ہے۔ وزارتِ خارجہ نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ عام شہریوں، شہری ڈھانچے، تجارتی جہازوں اور ان پر کام کرنے والے ملاحوں کو کسی بھی قسم کی کارروائی کا نشانہ بنانے سے گریز کریں۔

ادھر مرکزی وزیر برائے بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں سربانند سونووال نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ خلیجی خطے سے اب تک 4,052 ہندوستانی ملاحوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 اگست تک ہندوستان آنے والے 62 جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں 23 ہندوستانی پرچم والے جبکہ 39 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل تھے۔

مرکزی وزیر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن (ڈی جی ایم اے) مسلسل اپنی ایڈوائزری کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے تاکہ ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے آبنائے ہرمز میں ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی کے لیے کئی اضافی اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم، جہازوں اور عملے کا لائیو ڈیٹا بیس، جہازوں کی نقل و حرکت، ہندوستانی ملاحوں کی صورتحال اور کسی بھی واقعے یا جانی نقصان سے متعلق ہر 24 گھنٹے بعد تازہ معلومات جاری کرنے کا نظام شامل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ہندوستانی ملاحوں اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کو ہر ممکن حد تک یقینی بنانا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔