
علامتی تصویر، سوشل میڈیا
ایران اور امریکہ۔ اسرائیل جنگ کے سبب ہندوستان میں تیل کے بڑھتے بحران کے درمیان اچھی خبرآئی ہے۔ ایران نے 2 ہندوستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ بحری جہاز بدھ کی رات اور جمعرات صبح کے درمیان گزر ے ہیں۔ ہندوستان میں تیل کی بڑھتی ہوئی قلت کے درمیان یہ بڑی راحت کہی جارہی ہے کیونکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے زیادہ تر بحری جہاز وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور آمدو رفت تقریباً عملی طور پر بند ہو گئی ہے۔ ان دونوں جہازوں کے نکلنے نسے ہندوستان میں تیل کی قلت کسی حد تک دور ہو جائے گی۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کے درمیان بدھ کو ٹیلی فونک بات چیت ہوئی تھی۔ جس کے بعد تازہ پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ہند۔ ایران بات چیت کے بعد کم از کم 2 ہندوستانی ٹینکر( پشپک اور پرمل) محفوظ طور سے آبنائے ہرمز سے گزررہے ہیں۔ یہی وہ سمندری راستہ جہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے کئی بین الاقوامی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔ یہ اجازت ہندوستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس وقت اس علاقے سے گزرنے والے امریکہ، یورپ اور اسرائیل کے بحری جہازوں کو پابندیوں اور حملوں کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
Published: undefined
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے دو ہندوستانی بحری جہازوں (ہندوستانی جھنڈے والے) کو گزرنے کی اجازت دی۔ اس سے پہلے ایک لائبیرین جھنڈے والا ٹینکر جو سعودی خام تیل لے جا رہا تھا اور جس کا کپتان ہندوستانی تھا، دو دن پہلے آبنائے ہرمز سے گزرا اور ممبئی کی بندرگاہ پر پہنچا تھا۔ یہ ہندوستان جانے والا پہلا جہاز تھا جو جنگ کے بعد بحفاظت وہاں سے گزر پایا ہے۔
Published: undefined
ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول ہے۔ آئی آر جی سی کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی رضا تنگسیری نے کہا کہ کوئی بھی جہاز جو آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتا ہے، اسے ایران سے اجازت لینا ہوگی، ورنہ جوابی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ایکسپریس روم اور میوری نارے نامی دو بحری جہازوں کا ذکر کیا جنہوں نے انتباہات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی اور صرف حملے کا شکار ہوئے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور اس کا زیادہ تر خام تیل مشرق وسطیٰ سے آتا ہے، جو آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد (28 فروری سے پہلے) کئی ہندوستانی جہاز پھنس گئے تھے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کے مطابق 28 سے 37 ہندوستانی جھنڈے والے بحری جہاز وہاں تھے جن میں ایک ہزار سے زیادہ ہندوستانی سیفیئرس تھے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined