
آئی اے این ایس
واشنگٹن: آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں ہندوستان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پیش کردہ قرارداد پر روس اور چین کے ویٹو کے معاملے میں غیر جانب دار مؤقف اپناتے ہوئے کسی بھی فریق کی کھلی حمایت سے گریز کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے مستقل نمائندے پی ہریش نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام ممالک کو کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی امن کے لیے ضروری ہے کہ تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کیا جائے اور کسی بھی طرح کی عسکری شدت سے گریز کیا جائے۔
Published: undefined
پی ہریش نے مزید کہا کہ ہندوستان تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کو بنیادی اصول سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی سرحدی خودمختاری کو نقصان پہنچانا بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے عالمی استحکام متاثر ہوتا ہے۔
یہ اجلاس ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت طلب کیا گیا تھا، جس کے مطابق سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی جانب سے کسی قرارداد پر ویٹو استعمال کیے جانے کے بعد انہیں دس دن کے اندر جنرل اسمبلی کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوتی ہے۔ سات اپریل کو روس اور چین نے بحرین کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے اور جہاز رانی کی آزادی میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
Published: undefined
روس اور چین نے اپنے ویٹو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ قرارداد یک طرفہ تھی اور اس میں خطے میں جاری کشیدگی کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کے مطابق اس قرارداد سے بعض ممالک کی فوجی کارروائیوں کو جواز مل سکتا تھا۔ دوسری جانب امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک نے اس ویٹو پر سخت تنقید کی اور اسے عالمی امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
ہندوستان نے اگرچہ ویٹو کے معاملے میں غیر جانب دار رہنے کا فیصلہ کیا، تاہم اس نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو نہایت اہم قرار دیا۔ پی ہریش نے کہا کہ ہندوستان کی توانائی اور اقتصادی سلامتی کے لیے اس آبنائے سے گزرنے والی تجارتی سرگرمیاں نہایت اہم ہیں، کیونکہ دنیا بھر کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بے گناہ شہری عملے، بشمول ہندوستانی ملاحوں، کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور شہری عملے کو خطرے میں ڈالنا ناقابل قبول ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی قوانین کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ اس تمام صورتحال نے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined