
تصویر بشکریہ ایکس
نئی دہلی: کانگریس سمیت انڈیا اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ نے دہلی میں طلبہ پر پولیس کی سخت کارروائی اور ایودھیا کے شری رام مندر میں چندے اور چڑھاوے کی چوری کے معاملے پر بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاجی مارچ نکالا۔ مظاہرین نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان دونوں معاملات پر پارلیمنٹ میں آ کر بیان دیں۔
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کے ارکان نے پریرنا استھل پر مہاتما گاندھی کے مجسمے سے مکر دوار تک مارچ کیا۔ اس دوران ارکان کے ہاتھوں میں ’امت شاہ جواب دو‘ کے پوسٹر تھے اور وہ حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ احتجاج کے دوران جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
مارچ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن ان معاملات پر بحث کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو خود ایوان میں آکر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوئے کئی دن گزر چکے ہیں، مگر دونوں رہنما ایوان میں نہیں آ رہے، جس سے پارلیمنٹ کا وقار متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کا غرور انہیں پارلیمنٹ میں آنے سے روک رہا ہے۔
کھڑگے نے سوشل میڈیا پر بھی سوال اٹھایا کہ وزیر داخلہ نوجوانوں پر ہونے والے مظالم پر بیان دینے سے کیوں گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شری رام مندر میں چڑھاوے کی ؎چوری جیسے معاملے پر بھی حکومت کو جواب دینا چاہیے۔
ادھر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ عوام کے سامنے آنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ وہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے ذمہ دار ہیں۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ امت شاہ کو پارلیمنٹ میں آ کر یہ واضح کرنا چاہیے کہ طلبہ پر حملے اور طاقت کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا۔
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کے عہدے کے ساتھ عوام کے تئیں جواب دہی بھی وابستہ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں جمہوری نظام ہے، نہ کہ کسی کا دربار۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ پر گولیاں چلانا، پیلٹ گن، آنسو گیس اور لاٹھی چارج جیسے اقدامات کسی نہ کسی کے حکم پر ہی ہوئے ہوں گے، اس لیے وزیر داخلہ کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
دوسری جانب کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے الزام لگایا کہ حکومت عوامی مفاد کے اہم معاملات پر بحث کرانے اور پارلیمنٹ کو باقاعدہ چلنے دینے کے لیے تیار نہیں ہے، جبکہ اپوزیشن مسلسل ان مسائل پر جواب کا مطالبہ کر رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔