قومی خبریں

ہندوستان میں پہلی بار پلاسٹک نوٹوں کا ٹرائل، 10 اور 20 روپے کے 2 ارب نوٹوں کو منظوری

مرکزی حکومت نے 10 اور 20 روپے کے ایک ایک ارب پلاسٹک نوٹوں کے فیلڈ ٹرائل کو منظوری دے دی ہے۔ آر بی آئی کا کامیاب ٹرائل کے بعد مالی سال 2027-28 تک انہیں گردش میں لانے کا ہدف ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: ہندوستان میں کرنسی نظام کو زیادہ پائیدار اور محفوظ بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت نے 10 اور 20 روپے کے پلاسٹک (پولیمر) نوٹوں کے فیلڈ ٹرائل کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے دونوں مالیت کے ایک ایک ارب، یعنی مجموعی طور پر 2 ارب پلاسٹک نوٹ جاری کرنے کے منصوبے کو منظوری دی ہے۔ اس کی اطلاع منگل کو راجیہ سبھا میں دی گئی۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اپنے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارش کی بنیاد پر آر بی آئی ایکٹ 1934 کی دفعہ 25 کے تحت یہ تجویز مرکزی حکومت کو بھیجی تھی۔ تجویز میں فیلڈ ٹرائل کے کامیاب رہنے کی صورت میں 10 اور 20 روپے کے پلاسٹک نوٹوں کو باقاعدہ طور پر جاری کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت نے اس تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ آر بی آئی کی جانب سے حکومت کو بتایا گیا ہے کہ پلاسٹک نوٹوں کو موجودہ کاغذی نوٹوں کے ساتھ متوازی طور پر گردش میں لانے کی تجویز ہے۔ یعنی نئے نوٹ جاری ہونے کے بعد موجودہ کاغذی نوٹ فوری طور پر ختم نہیں کیے جائیں گے۔

پلاسٹک نوٹ خصوصی قسم کے پولیمر یعنی پلاسٹک پر مبنی مواد سے تیار کیے جاتے ہیں۔ عام کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں یہ زیادہ پائیدار ہوتے ہیں اور نمی، دھول اور روزمرہ استعمال سے ہونے والی گھسائی کو بہتر طور پر برداشت کر سکتے ہیں۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی اس طرح کے نوٹ استعمال کر رہے ہیں۔

پلاسٹک نوٹوں کی عمر کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی وجہ سے بار بار نئے نوٹ چھاپنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ اس سے طویل مدت میں کرنسی کی چھپائی اور تبدیلی سے متعلق اخراجات میں کمی آنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ ان نوٹوں میں جدید حفاظتی خصوصیات شامل کرنا بھی آسان ہوتا ہے، جس سے جعلی نوٹوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ ابھی ان نوٹوں کی خریداری کا عمل ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس لیے فی الحال یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ پلاسٹک نوٹ عام لوگوں کے لیے کب تک دستیاب ہوں گے یا اس پورے منصوبے پر کتنی لاگت آئے گی۔

اس ماہ کے آغاز میں آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بھی پلاسٹک نوٹوں کے پائلٹ پروجیکٹ کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پلاسٹک نوٹوں پر ابھی ٹرائل جاری ہے اور انہیں بازار میں لانے سے پہلے مکمل طور پر جانچا جائے گا۔

آر بی آئی گورنر نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ مرکزی بینک فیلڈ ٹرائل کے نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی ان نوٹوں کو بڑے پیمانے پر گردش میں لانے کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گا۔ ان کے مطابق آر بی آئی کا ہدف مالی سال 2027-28 تک پلاسٹک نوٹوں کو گردش میں لانا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔