قومی خبریں

کرناٹک میں رواں سال زہریلے سانپوں نے 17608 افراد کو ڈسا، 205 افراد کی موت

’بی بی ایم پی‘ ہیلپ لائن، ایمرجنسی نمبر 100 اور فائر بریگیڈ کو 3 دنوں میں 200 سے زائد کالز موصول ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ کوبرا، رسیل وائپر، ریٹ اسنیک اور دھاری دار سانپ دیکھے جانے کی اطلاع ملی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div>

علامتی تصویر، سوشل میڈیا

 

بنگلورو اور پورے کرناٹک میں بارش رکنے کے بعد تیز دھوپ نکلنے اور اچانک گرمی بڑھنے کی وجہ سے سانپوں کی دہشت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ٹھنڈے ماحول کی تلاش میں سانپ انسانی آبادیوں اور گھروں کے اندر گھس رہے ہیں۔ بنگلورو شہر میں گزشتہ 3 دنوں کے دوران گھروں میں سانپ گھسنے کی 200 سے زائد شکایات درج کی گئی ہیں۔ دوسری جانب ریاست بھر میں سانپ کے ڈسنے کے واقعات میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں ریاست میں سانپ کے ڈسنے کے 702 معاملے درج کیے گئے ہیں، جس میں 6 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ محکمۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک ریاست میں مجموعی طور پر 17608 افراد سانپ کے ڈسنے کا شکار ہو چکے ہیں اور 205  افراد کی موت ہو چکی ہے۔

موسم میں اچانک تبدیلی اور تیز دھوپ نکلنے کے بعد شہری باشندوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ بارش کے بعد اچانک دھوپ نکلنے کی وجہ سے سانپ گھروں کے ٹھنڈے مقامات، مثلاً جوتوں کے اسٹینڈ، سائیکل کے قریب، باتھ روم اور واشنگ مشین کے پیچھے چھپے ہوئے مل رہے ہیں۔ ’برہت بنگلورو مہانگر پالیکے‘ (بی بی ایم پی) کی ہیلپ لائن، ایمرجنسی نمبر100 اور فائر بریگیڈ کو گزشتہ 3 دنوں میں 200 سے زیادہ کالز موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ کوبرا، رسیل وائپر، ریٹ اسنیک اور دھاری دار سانپ دیکھے جانے کی اطلاع ملی ہے۔

ماہرین اور وائلڈ لائف ٹیموں کے مطابق بنگلورو کے تیزی سے ترقی کرتے بیرونی علاقوں میں یہ مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہے۔ ودیارنیہ پورہ، ناگربھاوی، آر آر نگر، یلہنکا، جے پی نگر اور سرجاپور جیسے علاقوں میں کنکریٹ کی تعمیرات اور تیزی سے جاری ترقیاتی کاموں کی وجہ سے سانپوں کے قدرتی مسکن تباہ ہو رہے ہیں۔ سانپوں کو بچانے والی ٹیموں پر اچانک کام کا دباؤ کافی بڑھ گیا ہے۔ ماہرین نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے لیے ریلز بنانے یا کرتب دکھانے کے چکر میں خود سانپ پکڑنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

سانپ ڈسنے کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ریاستی حکومت اور محکمۂ صحت الرٹ پر ہے۔ محکمۂ صحت نے ریاست کے تمام ضلعی اسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز (پی ایچ سی) کو مناسب مقدار میں سانپ کے زہر کا اثر ختم کرنے والی ادویات (اینٹی وینم) ذخیرہ کرنے کی سخت ہدایات دی ہیں۔ وزیر صحت یو ٹی قادر نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ سانپ کے ڈسنے سے متاثرہ ہر مریض کو بلا تاخیر ہنگامی طبی امداد اور علاج فراہم کیا جائے۔ ماہرین اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ گھر یا اس کے آس پاس سانپ نظر آنے پر اسے مارنے یا خود پکڑنے کی بالکل کوشش نہ کریں۔ فوری طور پر بی بی ایم پی، فائر بریگیڈ یا مجاز سانپ ریسکیو ہیلپ لائن کو اطلاع دیں اور سانپ سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں۔ اگر سانپ ڈس لے تو جھاڑ پھونک کے چکر میں پڑے بغیر مریض کو فوراً قریبی سرکاری اسپتال لے جائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔