
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع کمال مولا مسجد-بھوج شالہ سے متعلق تنازعہ میں سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے نماز جمعہ پر پابندی اور بسنت پنچمی کے دن خصوصی یا دن بھر پوجا کی درخواست مسترد کر دی۔ ’لائیو لا‘ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے واضح کیا کہ مذہبی سرگرمیوں کے لیے 2003 سے نافذ انتظامات ہی قابلِ عمل رہیں گے اور کسی ایک فریق کو خصوصی حق نہیں دیا جا سکتا۔
یہ سماعت ’ہندو فرنٹ فار جسٹس‘ کی جانب سے دائر اس درخواست پر ہوئی جس میں بسنت پنچمی کے موقع پر صرف ہندوؤں کو عبادت کی اجازت دینے اور جمعہ کی نماز کو محدود یا موخر کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل وشنو شنکر جین نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پوجا کی رسومات طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ادا کی جانی چاہئیں اور اس صورت میں نماز جمعہ شام کے وقت کرائی جا سکتی ہے۔
Published: undefined
اس کے جواب میں مسجد کمیٹی کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ جمعہ کی نماز کا وقت مذہبی طور پر مقرر اور غیر متبدل ہے، جو دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مسلم فریق کم سے کم وقت میں نماز ادا کر کے احاطہ خالی کرنے کے لیے تیار ہے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ یا توسیع کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس بات کو ریکارڈ پر لیا کہ 7 اپریل 2003 کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے جاری حکم نامہ ہی اس مقام پر مذہبی سرگرمیوں کے لیے بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اسی حکم کے تحت ہندو فریق کو ہر منگل اور بسنت پنچمی کے دن پوجا کی اجازت ہے جبکہ مسلم فریق کو ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔
Published: undefined
عدالت نے ہندو فریق کی دن بھر پوجا کی مانگ قبول نہیں کی اور یہ بھی واضح کیا کہ نماز جمعہ کے مقررہ وقت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ عدالت کے حکم کے مطابق بسنت پنچمی کے دن ہندو فریق طلوعِ آفتاب سے دوپہر 12 بجے تک اپنی روایتی رسومات ادا کرے گا جبکہ مسلم فریق کے لیے نماز جمعہ کا وقت بدستور ایک بجے سے تین بجے تک رہے گا۔
امن و امان کے پیش نظر عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ احاطے کے اندر بیریکیڈنگ کر کے دونوں فریقوں کے لیے علیحدہ علیحدہ جگہیں مختص کی جائیں، جبکہ داخلے اور خارجی راستوں کے انتظامات اس طرح کیے جائیں کہ کسی قسم کی کشیدگی یا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ عدالت نے مسلم فریق سے نمازیوں کی متوقع تعداد پیشگی فراہم کرنے کو بھی کہا تاکہ انتظامیہ مناسب حفاظتی اقدامات کر سکے۔
Published: undefined
عدالت نے اپنے حکم میں دونوں فریقوں سے اپیل کی کہ وہ باہمی احترام، رواداری اور تعاون کا مظاہرہ کریں اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر امن برقرار رکھیں۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ کمال مولا مسجد-بھوج شالہ معاملہ میں موجودہ قانونی بندوبست برقرار رہے گا اور کسی فریق کو دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں ہوگی۔
Published: undefined