قومی خبریں

’امریکی دورے کا اثر‘، آر ایس ایس لیڈر نے دیا پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے والا بیان، تو کانگریس نے چلائے طنز کے تیر

آر ایس ایس نے حال ہی میں اپنی تنظیم سے متعلق مغربی ممالک میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک مہم چلائی تھی، جس کے تحت ہوسبالے نے امریکہ اور برطانیہ میں مختلف پروگراموں میں شرکت کی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp;&nbsp;INCIndia@</p></div>

جے رام رمیش /  INCIndia@

 

کانگریس نے بدھ کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سینئر عہدیدار دتاتریہ ہوسبالے کے اس بیان پر طنز کسا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے ہمیشہ ایک راستہ کھلا رکھنا چاہیے۔ کانگریس نے کہا کہ ان کے حالیہ امریکہ دورہ کا اثر ان پر اور آر ایس ایس دونوں پر پڑا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اگر یہی بیان کسی اور نے دیا ہوتا تو بھکت بریگیڈ اور ٹی وی چینلوں کے سخت ردعمل سامنے آ گئے ہوتے۔‘‘

Published: undefined

جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’حالیہ امریکی دورے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہوسبالے پر بھی اس کا اثر پڑا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ان کے ایک ساتھی نے یہ تسلیم کیا کہ وزیر اعظم وہی کر رہے ہیں جو امریکہ چاہتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو بھکت بریگیڈ اور مختلف ٹی وی چینلز کس قدر شور مچاتے، غصہ دکھاتے اور واویلا کرتے...‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ ہوسبالے نے ’پی ٹی آئی‘ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعطل ختم کرنے کے لیے لوگوں کے درمیان رابطہ سب سے اہم ہے اور بات چیت کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت ہندوستان کا اعتماد کھو چکی ہے اور اب سول سوسائٹی کو سامنے آناچاہیے۔ ہوسبالے کا کہنا ہے کہ ملک کی سیکورٹی اور وقار کا تحفظ کرنا حکومت کا کام ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بات چیت کے راستے بند کر دیے جائیں۔ ہمیں ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعطل ختم کرنے میں عوامی روابط سب سے ضروری ہیں اور اسے مزید بڑھایا جانا چاہیے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایس نے حال ہی میں اپنی تنظیم سے متعلق مغربی ممالک میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک مہم چلائی تھی، جس کے تحت ہوسبالے نے امریکہ اور برطانیہ میں مختلف پروگراموں میں شرکت کی تھی۔ ہوسبالے نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ سمیت کئی مقامات پر لیکچرز دیے اور ہندوستانی نژاد تارکین وطن سے ملاقاتیں بھی کیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined