قومی خبریں

مہنگائی کا اثر: اخراجات میں کمی سے ترقی کو لگ سکتا ہے جھٹکا، ’ایف ایم سی جی‘ کی طلب میں سُستی کے اندیشے سے بڑھی تشویش

مہنگائی کے خدشات اس لئے زیادہ بڑھ گئے ہیں کیونکہ پچھلے 3 مہینوں میں کئی ایجنسیوں نے ہندوستان کی شرح نمو کے اندازے کم کئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے 2026 کے لیے شرح نمو کا اندازہ کم کر کے 6.4 فیصد کر دیا ہے۔

مہنگائی، تصویر ویپن
مہنگائی، تصویر ویپن 

ہندوستان کی معیشت کی سب سے بڑی طاقت کارخانے نہیں بلکہ بازار ہیں۔ گاؤں کی کرانہ دکان سے لے کر شہر کے مال تک جو خرچ ہوتا ہے وہی معاشی ترقی کی اصل دھڑکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخراجات میں سُستی معیشت کو بڑا جھٹکا دے سکتی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، خام تیل کی اونچی قیمتیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے مسلسل سرمائے کا اخراج، ڈالر کے مقابلے روپے کی ریکارڈ گراوٹ اور بڑھتے ہوئے درآمدی بل جیسے بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔

Published: undefined

دراصل گھریلو اخراجات ہندوستان کی معیشت کا سب سے بڑا سہارا ہیں۔ گھریلو جی ڈی پی میں ذاتی خرچ کی اشیا کی حصہ داری تقریباً 57 فیصد ہے۔ یعنی لوگوں کی جیب، قوت خرید اور اعتماد ہی ترقی کے سب سے بڑے انجن ہیں۔ دسمبر 2025 کی سہ ماہی کے دوران اشیا کا ذاتی استعمال بڑھ کر جی ڈی پی کے 57.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

Published: undefined

خدشات اس لئے زیادہ بڑھ گئے ہیں کیونکہ پچھلے 3 مہینوں میں کئی ایجنسیوں نے ہندوستان کی شرح نمو کے اندازے کم کئے ہیں۔ اقوام متحدہ 2026  کے لیے شرح نمو کے اندازے کو 6.6 فیصد سے کم کر کے 6.4 فیصد کر دیا ہے۔ موڈیز ریٹنگز نے بھی 2026 کے لیے ہندوستان کی شرح ترقی کی پیشن گوئی کو 6.8 فیصد سے کم کر کے 6.0 فیصد کر دیا ہے۔ وہیں انڈیا ریٹنگز نے مغربی ایشیائی کشیدگی اور ال نینو کے خطرے کو دیکھتے ہوئے27-2026 میں شرح نمو 6.7 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ موجودہ بحران کے باوجود ہندوستان تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے لیکن بیرونی جھٹکوں سے محفوظ نہیں ہے۔ روزمرہ کی ضروریات جیسے صابن، تیل، بسکٹ، شیمپو، چائے، پیکڈ فوڈ قومی خرچ کے تیز ترین اشارے دیتے ہیں۔ اسی محاذ پر وارننگ نظر آرہی ہے۔

Published: undefined

ورلڈ پینل بائے نیومریٹر کے مطابق جنوری-مارچ سہ ماہی میں ایف ایم سی جی ویلیو گروتھ 13.1 فیصد اور حجم میں اضافہ 5.4 فیصد رہا۔ ایجنسی کا اندازہ ہے کہ اگر خام تیل مستحکم رہا اور مانسون نے مدد کی تو 2026 میں حجم کی نمو 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر افراط زر اور موسمی دباؤ برقرار رہے تو ایف ایم سی جی گروتھ 3-4 فیصد تک سمٹ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ مہنگائی کے دور میں صارفین غیر ضروری خریداریوں کو ملتوی کر دیتے ہیں، مہنگے برانڈز سے سستے متبادل کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں اور جہاں بچت نظر آتی ہے وہاں بڑے ویلیو پیک کا انتخاب کرتے ہیں۔ کمپنیوں کے لیے یہ اشارے اچھے نہیں ہیں۔ کمپنیوں کے لیے حقیقی امتحان اب حجم میں اضافہ ہوگا، نہ کہ صرف زیادہ قیمتوں سے بڑھی آمدنی میں۔

Published: undefined

اشیا کے استعمال کا اصل امتحان موسم اور تیل سے ہوگا۔ یو ایس نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے مطابق مئی-جولائی 2026 میں ال نینو ابھرنے کا 82 فیصد اور اس کے موسم سرما تک برقرار رہنے کا 96 فیصد امکان ہے۔ آئی ایم ڈی کے ابتدائی تخمینے بتاتے ہیں کہ جنوب مغربی مانسون کمزور ہو سکتا ہے۔ کمزور بارش کا اثر براہ راست اشیا کی سپلائی سے سیدھے کچن تک آتا ہے۔ اناج، سبزیاں، دودھ، چارہ، دیہی اجرت اور دیہی طلب سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مہنگا خام تیل نقل و حمل، پیکیجنگ اور پیداواری لاگت میں اضافہ کرکے مہنگائی کو ہوا دیتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined