
کے سی وینوگوپال، ویڈیو گریب
پارلیمنٹ میں دونوں ایوانوں کی کارروائی ہنگامے کی نذر ہو رہی ہے۔ آج ایک بار پھر لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی مختلف اوقات کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ پارلیمنٹ کارروائی نہ ہونے کے لیے اپوزیشن پارٹیاں حکمراں طبقہ کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں۔ اس معاملہ میں کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ مرکزی حکومت ملک کی عوام اور اپوزیشن کی آواز سننے کے لیے تیار نہیں ہے، اسی لیے پارلیمنٹ کو بھی مؤثر طریقے سے چلنے نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ آخر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں آ کر جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں؟
وینوگوپال نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں عوام سے متعلق کئی اہم مسائل اٹھا رہی ہے، جن میں طلبا پر ہونے والی بربریت، ای-20 کا مسئلہ، جموں و کشمیر میں ریاستی درجہ بحال کرنے کا معاملہ اور رام مندر عطیات کا معاملہ شامل ہے۔ ان کے مطابق ان تمام مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے، لیکن حکومت پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے رام مندر میں چندہ چوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ اس معاملے پر باقاعدہ بحث چاہتی ہے، کیونکہ پورا ملک اس معاملے کو لے کر تشویش میں مبتلا ہے۔ ایسے معاملے پر پارلیمنٹ میں مناسب اور تفصیلی بحث ہونی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
وینوگوپال نے طلبا کے خلاف کارروائی کا معاملہ خاص طور سے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ سے مسلسل بیان دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ طلبا کے خلاف روزانہ فائرنگ اور مظالم کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس معاملے پر پارلیمنٹ میں اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ بحث اور گفتگو کے لیے ہوتی ہے، لیکن حکومت کسی بھی طرح کی بحث یا تبادلۂ خیال نہیں چاہتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ہر معاملے کو زبردستی آگے بڑھانا اور الگ الگ قوانین منظور کرانا چاہتی ہے، جس سے اپوزیشن کسی بھی صورت میں اتفاق نہیں کر سکتی۔
وینوگوپال نے کہا کہ جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کا بنیادی مقصد عوام کے مسائل پر بحث کرنا اور حکومت سے جواب طلب کرنا ہے۔ اگر حکومت اہم عوامی مسائل پر بحث سے گریز کرتی ہے اور اپوزیشن کی آواز کو نظر انداز کرتی ہے تو یہ جمہوری عمل کے لیے تشویش کا معاملہ ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کو مناسب طریقے سے چلایا جائے اور اہم مسائل پر کھلی بحث کی اجازت دی جائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔