
ابھشیک بنرجی، تصویر آئی اے این ایس
ایک طرف ہفتہ (18 جولائی) کو مغربی بنگال میں ٹی ایم سی رہنما ابھیشیک بنرجی کے دفتر پر بلڈوزر کی کارروائی ہوئی ہے، تو دوسری طرف انہوں نے پارٹی میں پھوٹ کے بعد ایک گروپ کے نشانے پر آنے والے لیڈران کو چیلنج کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ممتا بنرجی کے پاس واپس لوٹنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں، تو وہ خود ایک گھنٹے کے اندر پارٹی سے استعفیٰ دے دیں گے۔
ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ جو لوگ پارٹی چھوڑ کر آج مجھے برا بھلا کہہ رہے ہیں، یا مجھ پر الزامات عائد کر رہے ہیں میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ دیدی کے پاس واپس آ جائیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں، تو میں ایک گھنٹے کے اندر پارٹی سے استعفیٰ دے دوں گا، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ڈیل کی ہے۔ پارٹی چھوڑو، باغی گروپ یا بی جے پی میں شامل ہو جاؤ، ای ڈی، سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں سے تحفظ حاصل کرو، اور پھر ابھیشیک بنرجی پر الزامات عائد کرو اور انہیں برا بھلا کہو۔ اس کے علاوہ ابھیشیک بنرجی نے کہا ہے کہ ’’ہر کسی کو اپنا فیصلہ لینے اور جہاں چاہے وہاں جانے کا پورا حق ہے۔ لیکن اگر کوئی ای ڈی کا سمن ملتے ہی پالا بدل لیتا ہے، تو صاف ہے کہ وہ لڑنا نہیں چاہتے۔ وہ ڈرے ہوئے ہیں، اور صرف خوفزدہ لوگ ہی ہار مانتے ہیں۔‘‘
ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ مجھے بھی ای ڈی نے سمن بھیجا ہے، لیکن میں بھاگا نہیں ہوں۔ مجھے تقریباً 10 بار بلایا گیا۔ سی بی آئی، ایس ٹی ایف اور ریاستی پولیس نے بھی مجھے سمن بھیجا ہے۔ میرے خلاف 20 سے 30 ایف آئی آر درج ہیں، مجھے خود ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے۔ میں نے ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ ڈی جی پی سے میرے خلاف درج تمام ایف آئی آر کی لسٹ مانگی جائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔