
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر بدھ کی دیر رات ایک شخص نے حملہ کر دیا تھا۔ حالانکہ سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں وقت رہتے بچا لیا اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پوچھ تاچھ کے دوران ملزم نے بتایا کہ وہ گزشتہ 20 سالوں سے حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس واقعہ کے بعد فاروق عبداللہ کا پہلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں حملہ کرنے والے شخص کو نہیں جانتا ہوں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کا مقصد کیا تھا اور کیا دشمنی تھی۔‘‘
Published: undefined
فاروق عبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حملے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ جب وہ تقریب کے مقام سے باہر نکل رہے تھے تبھی انہیں پٹاخے جیسی آواز سنائی دی۔ اس کے بعد انہیں سیکورٹی اہلکاروں نے جلدی سے کار میں بٹھا دیا۔ انہیں لگا کہ وہ گولی نہیں پٹاخہ تھا، جو شادیوں میں عام طور پر چلائے جاتے ہیں۔ حالانکہ بعد میں ان کے سیکورٹی اہلکار نے کار میں بتایا کہ وہ گولی کی آواز تھی۔ فاروق عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ میں حملہ کرنے والے اس شخص کو نہیں جانتا ہوں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے حملہ کرنے کے پیچھے کا مقصد کیا تھا یا کوئی پرانی دشمنی تھی؟
Published: undefined
سابق وزیر اعلیٰ نے سیکورٹی انتظامات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس شادی میں تمام اہم شخصیات موجود تھیں لیکن وہاں پولیس کا انتظام نہیں تھا۔ پولیس کو خیال رکھنا چاہیے تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ مجھے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا بھی فون آیا تھا۔ انہوں نے خیریت دریافت کی اور کہا کہ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔
Published: undefined
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ نفرت کا جال پھیلا ہوا ہے، وطن میں نفرتوں نے جڑ پکڑ لی ہے۔ دوستی اور محبت کی بات کرنے والوں کے لیے جگہ نہیں ہے، جبکہ ہر مذہب پیار اور محبت سکھاتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں دہشت گردی بہت بڑھ چکی ہے اور اسے مکمل طور سے کنٹرول کرنا آسان نہیں ہے۔
Published: undefined
فاروق عبداللہ کے مطابق جمہوریت میں خیالات کا اختلاف ہونا فطری ہے، لیکن سب کو مل کر کام کرنا چاہیے اور اپنی بات رکھنے کا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منتخب حکومت کے پاس کافی اختیارات نہیں ہیں اور ایسے حالات میں نظام طویل عرصہ تک نہیں چل سکتا۔ ساتھ ہی انہوں نے یاد دلایا کہ جموں و کشمیر کو پھر سے ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined