
فائل تصویر آئی اے این ایس
مہاراشٹر کے شہر پونے کے انتہائی زیر بحث کیتن اگروال قتل کیس میں اب انصاف کی اپیل ملک کے اعلیٰ ترین آئینی منصب تک پہنچ گئی ہے۔ کیتن کے والد وشال اگروال نے ہندوستان کی صدر دروپدی مرمو کو ایک نہایت درد بھرا اور جذباتی ای میل ارسال کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے کسی بااثر شخصیت کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے باپ کی حیثیت سے اپنے بیٹے کے لیے انصاف کی فریاد کی ہے۔ وشال اگروال نے صدر سے ذاتی طور پر اپیل کی ہے کہ اس سنگین جرم کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں کرائی جائے اور قصورواروں کو جلد از جلد پھانسی یا سخت سے سخت سزا دی جائے۔
صدر دروپدی مرمو کو بھیجے گئے ای میل میں وشال اگروال نے اپنے خاندان پر ٹوٹنے والے غموں کے پہاڑ کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی دل سوز الفاظ لکھے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’محترمہ صدر، میں یہ خط کسی تاجر یا بااثر شخص کی حیثیت سے نہیں لکھ رہا، بلکہ ایک ایسے باپ کے طور پر لکھ رہا ہوں جو مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے اور اپنے مرحوم بیٹے کے لیے انصاف مانگ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ کیتن کے بے رحمانہ قتل نے ان کے ہنستے کھیلتے خاندان کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
خط میں ایک اور دردناک انکشاف کرتے ہوئے وشال اگروال نے بتایا کہ کیتن کی موت کے صرف 20 دن بعد انہوں نے اپنے والد کو بھی کھو دیا۔ ان کے والد اپنے پوتے کیتن سے بے حد محبت کرتے تھے اور اس کی اچانک موت کا شدید صدمہ برداشت نہ کر سکے۔ پوتے کے غم میں ان کا بلڈ پریشر مسلسل گرتا گیا اور آخرکار دل کا دورہ پڑنے سے ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس طرح خاندان نے صرف 20 دن کے اندر اپنی 2 نسلوں کو کھو دیا۔
وشال اگروال نے اپنے خط میں واضح کیا کہ ان کا خاندان قانون سے بالاتر کسی رعایت یا خصوصی سہولت کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ نہ کسی خصوصی رعایت کے خواہاں ہیں اور نہ ہی کسی وی آئی پی سلوک کے۔ ان کی صرف ایک ہی درخواست ہے کہ کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے فاسٹ ٹریک کورٹ منتقل کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ عام عدالتی کارروائی میں ہونے والی طویل تاخیر متاثرہ خاندان کی ذہنی اذیت اور ناقابل برداشت تکلیف میں روز بروز اضافہ کر رہی ہے۔ کیتن اب کبھی واپس نہیں آ سکتا، لیکن قانون کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر مجرموں کو آزادانہ گھومنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔
خط کے آخری حصے میں وشال اگروال نے صدر سے انتہائی جذباتی انداز میں اپیل کی کہ وہ اس حساس معاملے کا ذاتی طور پر نوٹس لیں۔ انہوں نے لکھا کہ اگر مجرموں کو فوری اور سخت سزا ملتی ہے تو اس سے نہ صرف ان کے بکھر چکے خاندان کو کچھ ذہنی سکون ملے گا بلکہ پورے معاشرے میں یہ مضبوط پیغام بھی جائے گا کہ کسی بے گناہ کی جان لینا اتنا آسان نہیں۔ انہوں نے اپنے خط کا اختتام ان الفاظ پر کیا ’’محترمہ صدر، براہ کرم اس کیس کو محض ایک عام سرکاری فائل بن کر دفاتر میں دھول کھانے کے لیے نہ چھوڑ دیں۔ اس فائل کے پیچھے ایک ایسا خاندان ہے جو اپنا سب کچھ کھو چکا ہے، اور اب اس کی آخری امید صرف اور صرف اس ملک کا انصاف ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔