
کیرالہ میں کانگریس کی انتخابی مہم
کیرالہ اسمبلی انتخابات میں بایاں محاذ پارٹیوں کی عبرتناک شکست اور کانگریس زیر قیادت یو ڈی ایف کی فتح نے ہندوستان کے ساتھ بیرون ملک بھی سرخیاں بٹوری ہیں۔ ریاست کے انتخابی نتائج کے حوالے سے امریکہ کے مشہور پالیسی ماہر مارک ڈوبووٹز نے ہندوستان کی تعریف کرتے ہوئے امریکہ کی زبردست کھنچائی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کمیونسٹوں کو اقتدار سے باہر کھدیڑ رہا ہے جبکہ امریکہ انہیں اپنے شہروں، ریاستوں اور پارلیمنٹ میں حکومت کرنے کے لیے منتخب کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہاں! ہم اتنے احمق ہیں۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ کیرالہ میں 9 اپریل کو ووٹ ڈالے گئے تھے اور پھر 4 مئی کو آئے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ 140 سیٹوں والی اسمبلی میں کانگریس زیر قیادت یوڈی ایف نے 102 سیٹیں جیت کر کلین سویپ کر دیا، جبکہ کمیونسٹ مورچہ (ایل ڈی ایف) محض 35 سیٹوں پر ہی سمٹ گیا۔ اس شاندار فتح کے ساتھ ہی کیرالہ میں تقریباً 60 سال سے حاوی کمیونسٹ ’غلبے‘ کا سورج غروب ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پینارائی وجین اور ان کے کئی قدآور وزرا کو اپنی ہی زمین پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اس الیکشن میں بی جے پی کو محض 3 سیٹیں ملی ہیں۔
Published: undefined
کیرالہ کے حالیہ نتائج کا جہاں ہندوستان میں ہر طرف ذکر ہو رہا ہے وہیں 7 سمندر پار امریکہ میں بھی یہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ امریکی دانشور اپنے ہی عوام کو ’احمق‘ بتانے لگے ہیں۔ کیرالہ، جسے دہائیوں سے کمیونسٹوں کا ناقابل تسخیر قلعہ مانا جاتا تھا، وہاں حالیہ سیاسی تبدیلی نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچادی ہے۔ امریکہ کے مشہور پالیسی ماہر مارک ڈوبووٹز نے کیرالہ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے امریکی رائے دہندگان پر طنز کسا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا سے لے کر وہائٹ ہاؤس تک سنسنی پھیل گئی ہے۔ آخر ہندوستان کی ایک ریاست کے نتائج میں ایسا کیا تھا جس نے ’سپرپاور‘ امریکہ کو آئینہ دکھانے کا کام کیا ہے؟
Published: undefined
دراصل کیرالہ میں جیسے ہی کانگریس زیر قیادت یو ڈی ایف نے بایاں محاذ کو زوردار شکست دی، مارک ڈوبووٹز اپنے ملک کی حالت دیکھ کر مایوس ہو گئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنا غصہ نکالا۔ وہ ہندوستان کی تعریف اور امریکہ کی کھینچائی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ہندوستان کمیونسٹوں کو اقتدار سے باہر نکال رہا ہے، جبکہ امریکہ انہیں اپنے شہروں، ریاستوں اور پارلیمنٹ میں اقتدار سونپنے کے لئے منتخب کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’ہاں! ہم اتنے احمق ہیں۔‘‘ مارک ڈوبووٹز کا اشارہ امریکہ میں بڑھتی اس ’پروگریسیو‘ سوچ کی طرف تھا جسے وہ کمیونزم کی ہی دوسری شکل مانتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے صاف کر دیا ہے کہ دنیا اب ہندوستانی رائے دہندگان کی سیاسی فہم کا لوہا مان رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined