
پارلیمنٹ کی نئی عمارت / آئی اے این ایس
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی آج ایک بار پھر ہنگامے کی نذر ہو گئی۔ پہلے راجیہ سبھا کی کارروائی پیر تک کے لیے ملتوی کی گئی، اور پھر لوک سبھا کی کارروائی پیر کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ دونوں ہی ایوانوں میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی غیر حاضری پر اعتراض ظاہر کر رہے تھے، اور انھیں ایوان میں پہنچ کر طلبا پر ہوئی بربریت سے متعلق جواب دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس ہنگامہ کے درمیان لوک سبھا میں بغیر بحث کے ہی ایم ایس ایم ای ترمیمی بل کو پاس کر دیا گیا، اور پھر ایوان زیریں کی کارروائی بھی ملتوی ہو گئی۔
اس سے قبل اپوزیشن لیڈران کی نعرہ بازی اور امت شاہ کی حاضری کے مطالبہ پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پارلیمنٹ میں اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے ایوانِ زیریں میں کہا کہ ’’امت شاہ صبح صبح پارلیمنٹ میں آتے ہیں، دیر رات واپس جاتے ہیں۔ یہ نعرہ لگانے کا غلط طریقہ ہے۔ وزیر داخلہ وہ انسان ہیں جن کا نام سن کر دہشت گرد، شورش پسند کانپ اٹھتے ہیں۔ جس دن امت شاہ کا یہاں جواب ہوگا، آپ سن نہیں پائیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اصول کے تحت جس کا بزنس ہوتا ہے، اسی سے متعلق وزیر کو ایوان میں جواب دینے آنا ہوتا ہے۔ آپ یہ طے نہیں کر سکتے کہ انھیں (امت شاہ کو) کب آنا ہے۔ آپ ایوان کو ڈسٹرب کر رہے ہیں۔‘‘ حالانکہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ مسلسل طلبا پر ہوئی بربریت سے متعلق امت شاہ کے بیان کا مطالبہ کرتے رہے۔
اس درمیان کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال امت شاہ کی پارلیمنٹ میں غیر حاضری کا ایک بورڈ میڈیا اہلکاروں کو دکھاتے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے جو بورڈ لیا ہوا تھا، اس میں 21 جولائی سے 6 اگست تک امت شاہ کے غیر حاضر ہونے کی جانکاری دی گئی تھی، اور 7 اگست کے سامنے سوالیہ نشان لگا ہوا تھا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’ہمارے وزیر داخلہ لوک سبھا اور پارلیمنٹ، دونوں سے غیر حاضر ہیں۔ وہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’انہیں پارلیمنٹ میں آ کر وضاحت کرنی چاہیے کہ طلبا پر پیلیٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا؟ آنسو گیس کے گولے استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا؟ اے کے-47 کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟ پورا ملک اور طلبا ان سوالات کے جواب چاہتے ہیں، لیکن وزیر داخلہ مکمل طور پر غیر حاضر ہیں۔‘‘
کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ’’ہم نے لوک سبھا کے اسپیکر سے بھی درخواست کی کہ وہ پارلیمانی امور کے وزیر کو ہدایت دیں کہ وہ اپوزیشن کا پیغام وزیر داخلہ تک پہنچائیں۔ لیکن ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ جب مانسون اجلاس کے اختتام میں صرف 4 دن باقی رہ گئے ہیں تو امت شاہ پارلیمنٹ کیوں نہیں آ رہے ہیں؟‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔