قومی خبریں

غلامی کی تاریخ کا حساب ہونا چاہیے، صدیوں کے استحصال نے افریقہ کو مقروض بنا دیا: سیرل رامافوسا

جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کہا کہ غلامی کی تاریخ کا حساب ضروری ہے۔ صدیوں کے استحصال اور وسائل کی لوٹ مار نے افریقہ کو معاشی طور پر کمزور اور قرض کے بوجھ تلے دبا دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>سیرل رامافوسا / آئی اے این ایس</p></div>

سیرل رامافوسا / آئی اے این ایس

 

جوہانسبرگ: جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے افریقہ ماہ کے موقع پر غلامی کی تاریخ کے حوالے سے حساب اور ازالے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدیوں کے استحصال اور افریقی وسائل کی منظم لوٹ مار کے اثرات آج بھی براعظم کی معیشتوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

پیر کو اپنے ہفتہ وار نیوز لیٹر میں انہوں نے کہا کہ غلامی کے تناظر میں کیا جانے والا ازالہ صرف مالی ادائیگی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں متاثرہ افریقی ممالک کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی اور معاشی مواقع کی فراہمی بھی شامل ہونی چاہیے۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق سیرل رامافوسا نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، مہارتوں کی فراہمی اور صدیوں پہلے لوٹی گئی ثقافتی وراثت کی غیر مشروط واپسی بھی اس عمل کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات نہ صرف تاریخی ناانصافی کے ازالے کے لیے ضروری ہیں بلکہ افریقی ممالک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ غلامی اور نوآبادیاتی دور کے اثرات آج بھی افریقی ممالک کے بڑھتے ہوئے قرض کے بوجھ اور معاشی عدم توازن کی صورت میں نمایاں ہیں۔ ان کے مطابق یہ قرض کا بوجھ محض موجودہ پالیسیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی عمل کا تسلسل ہے۔

Published: undefined

سیرل رامافوسا نے کہا، ’’نہ صرف لاکھوں افریقی باشندوں کو غلام بنایا گیا بلکہ نوآبادیاتی طاقتوں نے افریقی زمینوں پر قبضہ کر کے اور وسائل کا استحصال کر کے بے پناہ دولت حاصل کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ غلامی صرف انسانی غلامی تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسا نظام تھا جس کے ذریعے غیر انسانی طریقوں سے دولت اور ثقافتی اشیا حاصل کی گئیں، جن میں سے کئی آج بھی یورپ کے عجائب گھروں میں موجود ہیں۔

انہوں نے غلام تجارت کو تاریخ کا ایک انتہائی ظالمانہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک صدی سے زائد عرصے تک لاکھوں افریقی مردوں، خواتین اور بچوں کو پکڑ کر اشیا کی طرح خریدا اور فروخت کیا جاتا رہا۔

Published: undefined

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں غلامی کو انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرائم میں شمار کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کی بیشتر ممالک نے حمایت کی جبکہ چند ممالک نے اس کی مخالفت کی اور بعض نے ووٹنگ سے گریز کیا۔

سیرل رامافوسا کے مطابق غلامی کی تاریخ کا حساب اور اس کے اثرات کا ازالہ عالمی انصاف کے قیام کے لیے ناگزیر ہے اور اس سمت میں عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined