قومی خبریں

’ہندو اور مسلمان میری 2 آنکھیں‘، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کا اہم بیان

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے مسلم نوجوانوں سے کہا کہ ’’صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے ہنر بھی سیکھنے ہوں گے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ تلنگانہ اے ریونت ریڈی / آئی اے این ایس</p></div>

وزیر اعلیٰ تلنگانہ اے ریونت ریڈی / آئی اے این ایس

 

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی جمعرات کو حیدرآباد میں منعقدہ ’مائنارٹیز ایکسی لینس سمٹ‘ میں شریک ہوئے۔ اس دوران انہوں نے تلنگانہ میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کا ذکر کیا اور لوگوں سے اپنے حق رائے دہی کے تحفظ کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے لیے ہندو اور مسلمان معاشرہ 2 آنکھوں کی طرح ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اقلیتوں کی خودمختاری کے لیے پرعزم ہے اور مسلم برادری کے نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مندی کی ترقی پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں دستیاب روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ کچھ سیاسی طاقتیں تلنگانہ میں ووٹرس کے نام ہٹانے کی سازش کر رہی ہیں۔ مغربی بنگال کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں اسمبلی انتخاب سے قبل لاکھوں ووٹ ہٹائے گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کانگریس کارکنان سے گھر گھر جا کر ووٹر لسٹ کی جانچ کرنے اور یہ یقینی بنانے کو کہا کہ کسی بھی اہل شخص کا نام فہرست سے نہ ہٹے۔ ہر شخص کو ریونت ریڈی بننا ہوگا اور اپنے ووٹ کے حق کی حفاظت کرنی ہوگی۔ کانگریس تلنگانہ میں ووٹرس کے نام ہٹانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

ریونت ریڈی نے مسلمانوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس مبینہ بیان کا ذکر کیا، جس میں تلنگانہ میں بی جے پی کی حکومت بننے پر اقلیتوں کا 4 فیصد ریزرویشن ختم کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر بی جے پی کو مسلم ریزرویشن پر اعتراض ہے تو پہلے گجرات میں اسے ختم کر کے دکھائے۔ وزیر اعلیٰ نے 4 فیصد اقلیتی ریزرویشن نافذ کرنے کا سہرا کانگریس کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت میں اس کے ذریعے نوجوانوں کو گروپ-1 اور گروپ-2 جیسی سرکاری خدمات میں نوکریاں ملی ہیں۔ ریونت ریڈی کے مطابق بھرتی کے عمل کو روکنے کے لیے کچھ طاقتوں نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا لیکن حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا اور تقرریاں مکمل کیں۔

ریونت ریڈی نے اقلیتی برادری کے لیے اپنی حکومت کی جانب سے کیے گئے کاموں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے ایک رکن کو تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سابق ہندوستانی کرکٹ کپتان محمد اظہر الدین کو ریاستی کابینہ میں وزیر بنائے جانے کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ عالمی چمپئن باکسر نکہت زرین کو گروپ-1 سطح کی نوکری اور 3 کروڑ روپے کی انعامی رقم دینے نیز کرکٹر محمد سراج کو ڈی ایس پی مقرر کیے جانے کی بات کہی۔

وزیر اعلیٰ نے مسلم نوجوانوں سے کہا کہ صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے ہنر بھی سیکھنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اور جاپان میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع دستیاب ہیں اور تلنگانہ کے نوجوانوں کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت نے طلبہ اور نوجوانوں کی ہنر مندی کی ترقی کے لیے ’اسکلز یونیورسٹی‘ قائم کی ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو روزگار کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تلنگانہ کا وزیر اعلیٰ بننے میں مسلم برادری کی جانب سے ملنے والی حمایت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت تمام طبقات کی بہبود اور ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔