قومی خبریں

تمل ناڈو میں سرمایہ کاری کو رفتار دینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل، 2036 تک 1.5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف

کمیشن دنیا بھر میں مقیم تمل باشندوں سے سرمایہ کاری راغب کرنے اور ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ریاست کو ایک پسندیدہ مقام کے طور پر مستحکم کرنے پر بھی توجہ دے گا۔

<div class="paragraphs"><p>تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جوزف وجے، تصویر سوشل میڈیا بشکریہ&nbsp;@CMOTamilnadu</p></div>

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جوزف وجے، تصویر سوشل میڈیا بشکریہ @CMOTamilnadu

 

صنعتی ترقی میں تیزی لانے اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ وجے کی قیادت والی تمل ناڈو حکومت نے چیف سکریٹری کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی سرمایہ کاری فروغ کمیشن (ٹی این آئی پی سی) تشکیل دیا ہے۔ نیا ادارہ سرمایہ کاری کی تجاویز میں تال میل پیدا کرے گا، انتظامی منظوریوں کے عمل کو تیز کرے گا اور ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے نتیجے میں سامنے آنے والے منصوبوں کو آسان بنائے با۔

کمیشن دنیا بھر میں مقیم تمل باشندوں سے سرمایہ کاری راغب کرنے اور ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ریاست کو ایک پسندیدہ مقام کے طور پر مستحکم کرنے پر بھی توجہ دے گا۔ یہ اقدام تمل ناڈو کے اس اہم منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت ریاست کا ہدف 2036 تک خود کو 1.5 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔

حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ صرف سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کرنے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوگا، جب تک کہ مجوزہ منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر عملی شکل نہ دی جائے۔ صنعت، سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارت کے محکمے نے تمل ناڈو بزنس فیسلیٹیشن (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے تحت اس کمیشن کی تشکیل کی ہے، جو 3 نومبر سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔

صنعت کے سکریٹری کمیشن کے رکن اور کنوینر کے طور پر کام کریں گے، جبکہ مالیات، صنعت، توانائی، ماحولیات، محصولات، رہائش، شہری ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکموں کے سینئر افسران اس کے رکن ہوں گے۔ کمیشن میں ایم ایس ایم ای، ٹیکس، محنت، ہنرمندی کی ترقی، آبی وسائل اور بلدیاتی انتظامیہ سے متعلق محکموں کے سینئر نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ لینڈ ایڈمنسٹریشن، لینڈ ریفارمز، تمل ناڈو آلودگی کنٹرول بورڈ اور ریاست کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے والے ادارے ’گائیڈنس تمل ناڈو‘ کے افسران بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے۔

حکومت کو امید ہے کہ اس نئے ادارہ جاتی نظام سے زمین کی الاٹمنٹ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بجلی، پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی منظوری کے ذمہ دار محکموں کے درمیان تال میل بہتر ہوگا۔ اس کا ایک اہم مقصد سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط اور تجارتی سرگرمیاں شروع ہونے کے درمیان اکثر پیش آنے والی انتظامی تاخیر کو کم کرنا ہے۔ یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ تمل ناڈو ہندوستان کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تجارتی معاہدوں کے نیٹورک سے فائدہ اٹھا کر اپنی برآمدات پر مبنی معیشت کو وسعت دینے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔

ریاست نے مالی سال 27-2026 کے لیے 72 ارب ڈالر کی اشیاء کی برآمدات کا اہم ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ موجودہ سطح 59 ارب ڈالر ہے۔ مینوفیکچررز، کسانوں، کاروباری افراد اور چھوٹے کاروباروں کی وسیع تر شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ریاست کے تمام 38 اضلاع کے لیے الگ الگ برآمدی اہداف بھی تیار کیے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ کمیشن سرمایہ کاری کی تجاویز کو فعال صنعتی منصوبوں میں تبدیل کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عالمی مارکیٹ میں تمل ناڈو کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مربوط انتظامی نظام فراہم کرے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔