قومی خبریں

سورت ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کا بھاری ہجوم، دیوالی پر گھر جانے کے لیے لگی لمبی قطاریں

بہار کے رہنے والے ستیندر کمار نے ’آئی اے این ایس‘ سے کہا کہ ’’ہم لوگ صبح 3 بجے سے قطار میں کھڑے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ بہار جانے کے لیے ٹرین مل جائے گی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سورت ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کا بھاری ہجوم، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

سورت ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کا بھاری ہجوم، تصویر/آئی اے این ایس

 

دیوالی پر اپنے گھر اور خاندان کے ساتھ خوشیاں منانے کے لیے گجرات کے سورت شہر کے اودھنا ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کا سیلاب امڈ پڑا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ مسافر اپنی باری کا انتظار کرنے کے لیے 12-12 گھنٹے لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ گھنٹوں انتظار کے باوجود کئی مسافر اس الجھن میں مبتلا ہیں کہ وہ بحفاظت اپنے گاؤں پہنچ بھی پائیں گے یا نہیں۔

مسافروں کی بھاری بھیڑ کو کنٹرول کرنے اور انہیں ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے ریلوے انتظامیہ نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ مغربی ریلوے کے تعلقات عامہ کے افسر (پی آر او) انوبھو سکسینہ نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کو بتایا کہ دیوالی کی چھٹی کے باعث مسافروں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس کے پیش نظر جالور، جھاجھا اور دیگر مصروف روٹس پر مسلسل اسپیشل ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔

انوبھو سکسینہ کے مطابق پورے مغربی ریلوے زون میں 190 سے زیادہ ٹرینوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ صرف سورت اور اودھنا کے علاقے سے 70 سے زیادہ ٹرینیں اور ان کے 300 سے زیادہ پھیرے شیڈول کیے گئے ہیں۔ 10 اکتوبر سے اب تک 10 ٹرینیں نوٹیفائی کی گئی ہیں، جن میں سے 5 ٹرینیں کامیابی کے ساتھ چلائی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ آخری وقت میں مسافروں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے جھاجھا کے لیے خصوصی طور پر اضافی ٹرینیں بھی چلائی گئیں۔

پی آر او انوبھو سکسینہ نے مزید کہا کہ جیسے جیسے مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، اسی حساب سے خصوصی ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ مسافروں کی آمد و رفت کے اعداد و شمار کے بارے میں پی آر او نے بتایا کہ صرف رات 11 بجے سے صبح تک 14000 سے 15000 مسافر سفر کر چکے ہیں۔ یکم اکتوبر سے اب تک 4 لاکھ سے زیادہ مسافر اس روٹ پر سفر کر چکے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسٹیشن پر مسافروں کی حفاظت اور سہولت کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے۔ ریلوے کا پورا عملہ مستعدی کے ساتھ موقع پر تعینات ہے۔ مسافروں کی مدد کے لیے ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے اہلکار، کافی تعداد میں ٹکٹ کاؤنٹر، ہیلپ ڈیسک، مردوں، خواتین اور معذور افراد کے لیے الگ الگ ماڈیولر بیت الخلاء، 150 سے زیادہ لاؤڈ اسپیکر اور اے ٹی ایم مشینوں سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

اسٹیشن پر موجود مسافروں کی پریشانی اور راحت، دونوں کیفیات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں کچھ مسافر صبح سے قطاروں میں کھڑے ہو کر ٹکٹ اور سیٹ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں، دوسری جانب کچھ مسافروں کو ٹرین اور سیٹ کے بارے میں پختہ معلومات نہ ملنے کے باعث غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ حالانکہ جن مسافروں کو منظم نظام کے تحت سیٹیں مل گئی ہیں، انہوں نے ریلوے کے ان انتظامات پر اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے۔

بہار کے رہنے والے ستیندر کمار نے ’آئی اے این ایس‘ سے کہا کہ ’’ہم لوگ صبح 3 بجے سے قطار میں کھڑے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ بہار جانے کے لیے ٹرین مل جائے گی۔‘‘ بہار کے ہی ایک اور مسافر ابھیشیک کمار نے کہا کہ ’’مجھے داناپور جانا ہے۔ میں صبح تقریباً 4 بجے سے اسٹیشن پر قطار میں کھڑا ہوں، لیکن ٹرین کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ میں گھر پہنچ پاؤں گا یا نہیں، یہ بھی یقینی نہیں ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔