قومی خبریں

بنچ کی غیر اعلانیہ تبدیلی پر سپریم کورٹ میں زور دار بحث، ججوں نے ناراضگی کا کیا اظہار

ججوں نے انتہائی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح پچھلے دروازے سے مقدمات کو دوسری بنچ میں منتقل کرنا عدالتی نظام کی شفافیت پر براہ راست شک پیدا کرتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

سپریم کورٹ نے بغیر اطلاع کے مقدمے کی سماعت کرنے والی بنچ تبدیل کرنے اور نئے ججوں کی بنچ کے ذریعہ پرانے فیصلوں کو پلٹنے کے معاملے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے کی وجہ سے قانونی اور انتظامی حلقوں میں بحث و مباحثہ جاری ہے۔ اس معاملے پر حال ہی میں سپریم کورٹ کی 2 الگ الگ ججوں کی بنچ اور کالجیم کی سطح پر بھی سنگین اعتراضات کیے جاچکے ہیں۔ اصل بنچ کو بتائے بغیر کیس خصوصی بنچ کو منتقل کرنے پر جسٹس منوج مشرا اور جسٹس اجل بھویاں کی خصوصی بنچ نے رجسٹری کی سرزنش کی۔

دراصل ’ سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز‘ (سی اے پی ایف) میں ڈیپوٹیشن سے متعلق معاملے کی پہلے سے سماعت کر رہی باقاعدہ بنچ میں جسٹس اجل بھوئیاں اور جسٹس اتل چندورکر کو یہاں سے ہٹا کر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے معاملے کو دوسری اسپیشل بنچ کے سامنے فہرست بند کر دیا گیا۔ وہاں جسٹس بھوئیاں معاون جج ہیں۔ اس پر ججوں نے انتہائی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح پچھلے دروازے سے مقدمات کو دوسری بنچ میں منتقل کرنا عدالتی نظام کی شفافیت پر براہ راست شک پیدا کرتا ہے۔

کورٹ نے رجسٹری سے دریافت کیا کہ خصوصی بنچ کو اعتماد میں لیے بغیر یا بغیر بتائے معاملے کو اس طرح کیسے ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے۔ جج بدلتے ہی فیصلہ بدلنے کے رجحان یعنی ’بینچ ہاپنگ‘ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اس بات کو لے کر بھی بحث جاری ہے کہ جب کسی معاملے میں ججوں کی بنچ تبدیل ہوتی ہے تو نئے جج سابق ججوں کے قائم کردہ قانونی فیصلوں کو آسانی سے پلٹ دیتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 141 کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے ججوں جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح نے تبصرہ کیا ہے کہ ججوں کی بنچ تبدیل ہونے پر پرانے فیصلوں کو دوبارہ کھولنا یا پلٹ دینا آئین کے آرٹیکل 141 کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ کا حکم ملک کا قانون ہوتا ہے۔ متوقع چیف جسٹس بی وی ناگ رتنا نے بھی اس رجحان پر اعتراض کرتے ہوئے عوامی طور پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ چہرے بدلنے سے عدالتی فیصلے نہیں بدلنے چاہئیں۔ اگر کسی قانون یا فیصلے پر شک ہے تو قائم شدہ اصول کے تحت اسے صرف بڑی بنچ کے پاس سماعت کے لیے بھیجنا ہی راستہ ہے، نہ کہ مساوی درجے کی بنچ کی جانب سے اسے براہ راست مسترد کر دیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔