
سنجے راؤت / آئی اے این ایس
شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر سنجے راؤت نے مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو ’پدم بھوشن‘ ایوارڈ دیے جانے پر اپنا سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ پیر کے روز انھوں نے حکومت کے اس فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کوشیاری نے ادھو ٹھاکرے کی ایم وی اے حکومت کو گرا کر ریاست میں جمہوریت اور آئین کا قتل کیا ہے۔ اس لیے انھیں ’پدم بھوشن‘ ایوارڈ سے سرفراز نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔
Published: undefined
دراصل مرکزی حکومت نے 25 جنوری کو اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو ’پدم بھوشن‘ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ کوشیاری 2019 سے 2023 تک مہاراشٹر کے گورنر رہے ہیں۔ اس دوران ان کی کارکردگی پر کئی بار سوال اٹھائے گئے۔ اسی تعلق سے سنجے راؤت نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزرائے اعلیٰ اجیت پوار و ایکناتھ شندے سمیت مہایوتی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کوشیاری کو پدم بھوشن دینے کے فیصلہ کی مذمت کرے۔ انھیں یہ قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ کوشیاری نے چھترپتی شیواجی مہاراج اور سماجی مصلح مہاتما پھولے و ساوتری بھائی پھولے کی بے عزتی کی تھی۔
Published: undefined
سنجے راؤت نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوشیاری نے مہاراشٹر کا گورنر رہتے ہوئے جمہوریت اور آئین کا قتل کیا تھا، انھوں نے ادھو ٹھاکرے کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار نبھایا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ کوشیاری نے گورنر کے طور پر اپنی مدت کار میں غیر قانونی کام کیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ادھو ٹھاکرے کی اکثریت والی حکومت کو گرا کر کوشیاری ریاست میں بی جے پی حکومت لانا چاہتے تھے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ کوشیاری جب مہاراشٹر کے گورنر تھے تو کئی تنازعات کا انھیں سامنا کرنا پڑا۔ جب ادھو ٹھاکرے وزیر اعلیٰ تھے، تو کوشیاری پر بطور گورنر ’اوور ایکٹیو‘ (ضرورت سے زیادہ فعال) ہونے کا الزام عائد کیا تھا اور بتایا تھا کہ ریاستی حکومت کی سفارش کے باوجود انھوں نے ریاستی قانون ساز کونسل کی 12 خالیں سیٹیں نہیں بھری تھیں۔ سابق گورنر کو چھترپتی شیواجی مہاراج کو پرانے وقت کا ’آئیکن‘ بتانے والے اپنے بیان پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
Published: undefined