
چنڈی گڑھ: کانگریس نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) کی رپورٹ کے حوالے سے ہریانہ کی سابقہ بی جے پی حکومت کے اقتدار میں ریاست میں 6476.21 کروڑ روپے سے زیادہ کے غیر قانونی کان کنی گھپلہ کا الزام لگاتے ہوئے اس پورے معاملے کی پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ کے جج سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
ریاستی کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا رکن کماری شیلجہ اور پارٹی کے میڈیا سیل کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کیگ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاست کی 95 کانوں کے لئے جو لائسنس دئے گئے ہیں ان کے ٹھیکیداروں نے ضابطہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ علاقہ سے دوگنا سے بھی زیادہ علاقے میں غیر قانونی طورپر کان کنی کی۔
Published: undefined
انہوں نے کان کنی کے لئے ندیوں کا راستہ تک موڑ دیا جس سے ڈیموں اور ماحولیات کو بھی نقصان پہنچا۔ جتنی کان کنی ہونی چاہئے تھی اس سے کہیں زیادہ مال وہاں سے نکال لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیکیداروں کے ذریعہ دو گنا سے زیادہ علاقے میں کان کنی کئے جانے سے ریاست کے خزانے کو تقریباً پانچ کروڑ روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا ہے۔
Published: undefined
کانگریس لیڈروں نے رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ پچھلی بی جے پی حکومت 31 مارچ 2018 تک قسط اور اصل رقم کے طور پر 1476.21 کروڑ روپے کی بقایہ رقم تک وصول نہیں پائی۔ ان میں 69کان کنی ٹھیکیداروں کی قسط او ر سود کے طور پر 1155.84 کروڑ روپے اور مائنس اور منرلس بازآبادکاری فنڈ کا 66.74کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔
Published: undefined
ایسے میں غیر قانونی کان کنی کے پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کے گھپلے کو ملا کر ریاست کے خزانے کو مجموعی طور پر 6476.21کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکومت ٹھیکیداروں پر اتنی مہربان رہی ہے کہ اس نے ان میں سے غیر قانونی کانکنی کرنے والوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ کیگ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ حکومت نے تمام 95 کانوں کے لئے ٹھیکیداروں کو تو دے دیا لیکن اس بات کا اندازہ کرنا ضروری نہیں سمجھا کہ ان میں کتنی مقدار میں کان کنی کی جاسکتی ہے۔ حکومت کے پاس نکالے گئے معدنیات کا وزن اور اس کی ڈھلائی کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
شیلجہ اور سرجے والا نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کان کنی کے اس پورے معاملے کی پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ کے جج سے انکوائری کرے تاکہ معاملے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر جانچ کا حکم نہیں دیتی ہے تو پارٹی اس معاملے کو عوام کے درمیان لے کر جائے گی اور سڑکوں پر اترکر تحریک چلائے گی اور عدالت میں جانے کے متبادل سے بھی گریز نہیں کرے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined