
تصویر آئی این سی
نئی دہلی: اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی ریلی کے مقام پر ’شدھی کرن‘ کی رسم ادا کیے جانے کے معاملے پر کانگریس کے درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) سے تعلق رکھنے والے 32 ارکانِ پارلیمنٹ نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ارکان نے اس واقعے کو ایس سی-ایس ٹی برادریوں کی عزت، وقار اور خودداری سے جڑا سنگین معاملہ قرار دیا ہے۔
پیر کو کانگریس کے دہلی واقع اندرا بھون میں ایس سی-ایس ٹی ارکانِ پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا، جس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی محکمہ کے قومی کوآرڈینیٹر کے راجو اور ایس سی محکمہ کے صدر راجندر پال گوتم بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں واقعے کے خلاف آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا اور صدرِ جمہوریہ کو پیش کیے جانے والے مشترکہ میمورنڈم کو حتمی شکل دی گئی۔
کانگریس کے مطابق، صدر مرمو سے ملاقات کے دوران واقعے میں مداخلت اور مناسب کارروائی کی درخواست کی جائے گی۔ ارکان نے کہا کہ ’شدھی کرن‘ آئینی اقدار، بالخصوص مساوات، وقار اور چھوت چھات کے خاتمے کے اصولوں پر براہ راست حملہ ہے۔
یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب 11 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں بعض افراد نے ’شدھی کرن یگیہ‘ کیا۔ یہ کارروائی کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی وہاں عوامی ریلی سے خطاب کے تین روز بعد ہوئی تھی۔ کانگریس کا الزام ہے کہ یہ کارروائی کھڑگے کی ریلی کے لیے بنائے گئے اسٹیج اور مقام کو نشانہ بنا کر کی گئی۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
لوک سبھا رکن مالّو روی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 32 ایس سی-ایس ٹی ارکان نے ہلدوانی کے واقعے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے اور تمام سطحوں پر اس کے خلاف جدوجہد کے لیے پارلیمانی فورم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان منگل کو صدرِ جمہوریہ کو اپنی نمائندگی پیش کریں گے۔
کے راجو نے کہا کہ ارکان نے ایس سی-ایس ٹی برادریوں سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے ایک الگ فورم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فورم کے ذریعے پارلیمنٹ میں ان برادریوں سے متعلق مسائل اٹھانے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
کانگریس کے ایک اور رکن کے سریش نے کہا کہ پارٹی دلت اور آدیواسی برادریوں کے مسائل کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اٹھائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت کے دور میں ایس سی اور ایس ٹی برادریوں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور اگر اتراکھنڈ حکومت نے ہلدوانی واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا تو کانگریس سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرے گی۔
کانگریس کے ایس سی محکمہ کے صدر راجندر پال نے کہا کہ پارٹی نے 32 ارکان پر مشتمل ایس سی-ایس ٹی پارلیمانی فورم قائم کیا ہے اور آئندہ اس کی معاونت کے لیے ایک سیکریٹریٹ بھی تشکیل دیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔