قومی خبریں

گیانیش کمار نے 6 اکتوبر کو انڈیا اتحاد کے 240 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ میٹنگ نہ کرنے کی وجہ سے اٹھایا پردہ!

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پروٹوکول کے تحت سیاسی پارٹیوں یا ان کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ الیکشن کمیشن احاطہ میں ہو سکتی ہے، جبکہ اراکین پارلیمنٹ یہ میٹنگ پارلیمنٹ ہاؤس واقع انیکسی میں کرنا چاہتے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار / آئی اے این ایس</p></div>

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار / آئی اے این ایس

 
IANS

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے احتجاجی مظاہرہ اور الیکشن کمیشن سے ملاقات کا مطالبہ کرنے کے درمیان کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اسے کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیڈر سے ملاقات کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندہ وفود پہلے بھی مقررہ طریقۂ کار کے تحت اس سے ملاقات کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اسی طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے ملاقات کر سکتے ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اب تک کسی بھی سیاسی پارٹی کی جانب سے ملاقات کے لیے وقت نہیں مانگا گیا ہے، اس لیے کسی میٹنگ کا وقت بھی مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیڈران سے ملاقات کرنے اور ان کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کے لیے تیار ہے۔

دراصل راہل گاندھی، پرینکا گاندھی سمیت انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں کے لیڈران 6 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اپوزیشن لیڈران صبح سے آکاشوانی بھون احاطے میں دھرنے پر بیٹھے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں۔ جب تک کمیشن کی جانب سے ملاقات کے لیے بلایا نہیں جاتا، تب تک دھرنا جاری رکھیں گے۔ اپوزیشن کا الزام تھا کہ الیکشن کمیشن ان سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسی وجہ سے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کمیشن کے عہدیداروں سے ملاقات کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنے پر بیٹھے تھے۔ تاہم منگل کی شام دہلی پولیس نے احتجاج کر رہے لیڈران کو حراست میں لے لیا اور انہیں بس میں بٹھا کر آکاشوانی بھون احاطے سے ہٹا دیا تھا۔ بوقت شب ان لیڈران کو حراست سے رِہا کیا گیا تھا۔

اس معاملے میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ منگل کی شام 4 بجے تک کسی بھی سیاسی پارٹی نے کمیشن سے میٹنگ کے لیے وقت نہیں مانگا تھا۔ کمیشن کے مطابق سیاسی پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ کے لیے 2025 میں ایک مقررہ طریقۂ کار اور پروٹوکول وضع کیا گیا تھا۔ اس کے تحت کسی بھی سیاسی پارٹی یا وفد کو اپنے مجاز نمائندے کے ذریعہ پہلے کمیشن سے ملاقات کے لیے وقت مانگنا ہوتا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ مقررہ طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے سیاسی وفود پہلے کی طرح اس سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

6 اکتوبر کے احتجاجی مظاہرہ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے بتایا کہ منگل کی شام دہلی پولیس کے ذریعہ اسے اطلاع ملی تھی کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں اراکین پارلیمنٹ کا ایک وفد کمیشن سے ملاقات کر کے میمورنڈم پیش کرنا چاہتا ہے۔ کمیشن اس درخواست پر غور کر رہا تھا۔ بعد میں دہلی پولیس نے بتایا کہ راہل گاندھی انڈیا اتحاد کے تقریباً 240 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس کی انیکسی میں میٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس طرح کی میٹنگ اس کے مقررہ پروٹوکول کے مطابق نہیں تھی۔ کمیشن نے اس درخواست کو قواعد کے خلاف اور غیر معمولی قرار دیتے ہوئے قبول نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ مقررہ پروٹوکول کے تحت سیاسی پارٹیوں یا ان کے نمائندہ وفود کے ساتھ میٹنگ الیکشن کمیشن کے احاطے میں ہی ہو سکتی ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ وہ پارلیمانی اور جمہوری طریقۂ کار کے ساتھ ساتھ اپنے پروٹوکول اور قائم روایات کا مکمل احترام کرتا ہے۔ تاہم، معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیشن نے ایک غیر معمولی متبادل بھی پیش کیا تھا۔ اس کے تحت اراکین پارلیمنٹ سے میمورنڈم لینے کے لیے کمیشن کے سب سے سینئر موجودہ عہدیدار کو پارلیمنٹ ہاؤس کی انیکسی میں بھیجنے کی تجویز دی گئی تھی۔ کمیشن کے مطابق اراکین پارلیمنٹ اس تجویز پر رضامند نہیں ہوئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔