قومی خبریں

گلزار سنگھ خودکشی معاملہ: کیجریوال اپنے ’نشہ کے سوداگر وزیر‘ کو بچانے میں مصروف، کانگریس نے پھر کیا حملہ

کانگریس نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’گلزار سنگھ کے اہل خانہ کا کہنا ہے عآپ حکومت نے (گلزار سنگھ کی) آخری رسومات بھی زبردستی ادا کروائی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>گلزار سنگھ کی فیملی، ویڈیو گریب</p></div>

گلزار سنگھ کی فیملی، ویڈیو گریب

 

پنجاب میں گلزار سنگھ کی خودکشی کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ عآپ حکومت میں وزیر ہرپال سنگھ چیما پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے نشہ کی مخالفت کرنے والے گلزار سنگھ کو اس قدر ہراساں کیا کہ انھیں خودکشی جیسا سخت قدم اٹھانا پڑا۔ اس خودکشی واقعہ کے بعد پنجاب میں اپوزیشن پارٹیاں لگاتار عآپ حکومت اور پارٹی کنوینر اروند کیجریوال کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ کانگریس بھی حملہ آور ہے اور آج گلزار سنگھ کے اہل خانہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کر عآپ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔

کانگریس نے ویڈیو شیئر کرنے کے ساتھ سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’عآپ حکومت کے وزیر ہرپال سنگھ چیما نے نشہ کی مخالفت کرنے پر گلزار سنگھ کو اتنا پریشان کیا کہ انھوں نے خود کشی کر لی۔ اب گلزار سنگھ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عآپ حکومت نے آخری رسومات بھی زبردستی ادا کروائی۔‘‘ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ عآپ حکومت نشہ کے کاروبار میں مصروف ہے۔ نشہ کے ریکٹ کا پیسہ وزیر اعلیٰ سے لے کر کیجریوال تک پہنچ رہا ہے۔‘‘

کانگریس نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کیجریوال پر ہرپال سنگھ چیما کی دفاع کا الزام بھی عائد کیا۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’کیجریوال اپنے نشہ کے سوداگر وزیر کو بچانے میں مصروف ہیں۔ عآپ حکومت کے وزیر و لیڈران اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے پنجاب کے نوجوانوں کو نشہ میں جھونک رہے ہیں، اور اس ک ے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔‘‘ عآپ کے قومی کنوینر کیجریوال کو مخاطب کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’کیجریوال جی، اگر آنکھوں میں ذرا سی بھی شرم بچی ہو تو اپنی حکومت کے وزیر پر کارروائی کیجیے اور اپنا ’نشے کا نیکسس‘ بند کیجیے۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’آپ (کیجریوال) ایسا کریں گے نہیں، کیونکہ پھر پیسہ آنا بند ہو جائے گا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔