قومی خبریں

اتر پردیش میں اگلے 6 ماہ تک ہڑتال نہیں کر سکیں گے سرکاری ملازمین، یوگی حکومت نے جاری کیا نوٹیفکیشن

تازہ حکم سرکاری اداروں کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کے زیر کنٹرول کارپوریشنوں اورعلاقائی اتھارٹیز پر یکساں طریقے سے نافذ ہوگا۔ ان اداروں کے ملازمین بھی مقررہ مدت تک ہڑتال کا سہارا نہیں لے سکیں گے۔

سرکاری ملازمین کی علامتی تصویر
سرکاری ملازمین کی علامتی تصویر 

اتر پردیش حکومت نے اگلے 6 ماہ تک ملازمین کی ہڑتال پر پابندی لگا دی ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ تازہ حکم کے مطابق ریاست کے کام کاج سے متعلق عوامی خدمات میں ہڑتال پر پابندی رہے گی۔ یہ پابندی ریاستی حکومت کے کنٹرول والے کارپوریشنوں اورعلاقائی اتھارٹیوں پر بھی نافذ ہوگی۔ یاد رہے کہ نوئیڈا سمیت ریاست کے مختلف حصوں میں حکومت اور آجروں سے ناراض ملازمین و مزدوروں کے حالیہ دھرنے نے حالات خراب کر دیے تھے۔ ان مظاہروں اور ہڑتال کے سبب ریاست کے کئی حصوں میں کشیدگی پھیل گئی تھی، ساتھ ہی مختلف خدمات پر اثر پڑا تھا۔ شاید انہیں حالات سے سبق لیتے ہوئے یوگی حکومت کو یہ فیصلہ لینا پڑا ہے۔

Published: undefined

ریاست میں اگلے 6 ماہ تک ہڑتال پر پابندی سے متعلق حکم پرنسپل سکریٹری، تقرری و عملہ جات ایم دیو راج نے جاری کیا ہے۔ اس سلسلے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے انتظامی وجوہات اور عوامی خدمات کو بلا تعطل جاری رکھنے کے مقصد سے یہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ حکم اتر پردیش مینٹینینس آف ایسنسیشل سروسز ایکٹ 1966 کے سیکشن 3 کی ذیلی دفعہ (3) کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔

Published: undefined

اس سے پہلے اترپردیش حکومت نے روڈ ویز کی تمام سروسیز میں اگلے 6 ماہ کے لئے ہڑتال پر روک لگائی تھی۔ یہ فیصلہ مفاد عامہ اور ضروری خدمات کو منظم رکھنے کے لئے کیا گیا تھا۔ ٹرانسپورٹ کی چیف سکریٹری ارچنا اگروال کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا تھا کہ روڈ ویز کی تمام خدمات میں 6 ماہ تک ہڑتال پر پوری طرح پابندی رہے گی۔ تازہ حکم کا دائرہ صرف سرکاری محکموں تک محدود نہیں ہے، یہ پابندی ریاستی حکومت کے زیر کنٹرول کارپوریشنوں اور علاقائی اتھارٹیز پر یکساں طریقے سے نافذ ہوگا۔ اس لیے ان اداروں کے ملازمین بھی مقررہ مدت تک ہڑتال کا سہارا نہیں لے سکیں گے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined