قومی خبریں

لاکھوں روپے فیس مگر فائر سیفٹی کا نام و نشان نہیں، گورکھپور کے کوچنگ مراکز پر سوالات

مبصرین کے مطابق والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی امید میں ان مراکز کا رخ کرتے ہیں، حالانکہ بعض اوقات مطلوبہ نتائج بھی حاصل نہیں ہوتے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

اتر پردیش کے گورکھپور شہر میں انجینئرنگ، میڈیکل، پی سی ایس، آئی اے ایس اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرانے والے متعدد کوچنگ مراکز طلبہ کے والدین سے لاکھوں روپے فیس وصول کر رہے ہیں، لیکن فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات فراہم کرنے میں شدید لاپرواہی برت رہے ہیں۔

Published: undefined

گورکھپور کے گول گھر، بینک روڈ، کھووا منڈی، بیتیاہاتا، موہدی پور، شاہ پور اور دیگر علاقوں میں درجنوں کوچنگ مراکز بغیر مناسب معیار اور حفاظتی انتظامات کے چلائے جا رہے ہیں۔ بیشتر مراکز میں ایک یا دو کمروں میں طلبہ کی بڑی تعداد کو بٹھایا جاتا ہے، جہاں نہ مناسب ہنگامی اخراج کا انتظام موجود ہے اور نہ ہی آگ بجھانے کے آلات نصب ہیں۔ اس کے باوجود اداروں کی جانب سے بھاری فیس وصول کی جا رہی ہے۔

Published: undefined

حال ہی میں لکھنؤ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد ریاست بھر میں تشویش پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں گورکھپور کے بعض کوچنگ مراکز نے عارضی طور پر اپنے ادارے بند کر دیے۔ تاہم کئی مقامات پر اب بھی حفاظتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ بینک روڈ پر واقع ایک کوچنگ مرکز کی مثال دیتے ہوئے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں روزانہ بڑی تعداد میں طلبہ آتے ہیں، لیکن آگ سے تحفظ کے لیے کسی قسم کا مؤثر انتظام موجود نہیں ہے۔ نہ فائر ایکسٹنگوئشر دستیاب ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی اخراج کے مناسب راستے۔

Published: undefined

شہر کے بینک روڈ، گیس گودام گلی اور دیگر رہائشی و تجارتی علاقوں میں کوچنگ مراکز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اداروں میں تعلیمی معیار کے دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں، لیکن طلبہ کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے بنیادی ذمہ داریوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

مبصرین کے مطابق والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی امید میں ان مراکز کا رخ کرتے ہیں، حالانکہ بعض اوقات مطلوبہ نتائج بھی حاصل نہیں ہوتے۔ ایسے میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ جب فیس لاکھوں میں وصول کی جا رہی ہے تو طلبہ کی حفاظت کے لیے ضروری فائر سیفٹی نظام کیوں فراہم نہیں کیا جا رہا۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined