قومی خبریں

تمل ناڈو میں گولڈ رنگ اسکیم لانچ، وزیر اعلی وجے سرکاری اسپتال میں پیدا ہونے والے بچوں کو دیں گے سونے کی انگوٹھی

ریاستی حکومت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقسیم کے لیے 1.28 لاکھ سونے کی انگوٹھیاں خریدی گئی ہیں۔ اسکیم کے تحت ہر انگوٹھی پر الگ سیریل نمبر درج ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ تمل ناڈو وجے / آئی اے این ایس</p></div>

وزیر اعلیٰ تمل ناڈو وجے / آئی اے این ایس

 
IANS

تمل ناڈو حکومت نے نوزائیدہ بچوں کے لیے ایک اہم اسکیم لانچ کر دی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی سی جوزف وجے مدورائی کے سرکاری اسپتال راجا جی میں ’تھائی مامن تھنگا موتھیرم تھٹم‘ یعنی ماموں کی جانب سے سونے کی انگوٹھی اسکیم کا باقاعدہ آغاز 28 ستمبر کو کریں گے، منعقدہ تقریب میں تقریباً 25 نوزائیدہ بچوں کو ایک گرام سونے کی انگوٹھی دی جائے گی۔ واضح رہے کہ حکومت نے اسکیم کا فائدہ 22 جون 2026 سے سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہوئے نوزائیدہ بچوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی 28 ستمبر کو اسکیم کا باقاعدہ آغاز ہونے سے قبل بھی پیدا ہونے والے بچے اسکیم کے دائرے میں شمار کیے جائیں گے۔

ریاستی حکومت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقسیم کے لیے 1.28 لاکھ سونے کی انگوٹھیاں خریدی گئی ہیں۔ اسکیم کے تحت ہر انگوٹھی پر الگ سیریل نمبر درج ہوگا اور اسے چھیڑ چھاڑ سے محفوظ پیکیجنگ میں دیا جائے گا۔ اس اسکیم کا مقصد سرکاری اسپتالوں میں ولادت کو فروغ دینا اور سرکاری صحت کی خدمات پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ ’تھائی مامن تھنگا موتھیرم تھٹم اسکیم‘ کو تمل ناڈو حکومت کے وسیع تر ویٹری تملگم ویژن کا حصہ بتایا گیا ہے۔ اس کا نام تمل روایت تھائی مامن سے متاثر ہے۔ اس روایت میں بچے کی پیدائش کے موقع پر اس کے ماموں کی جانب سے تحفہ دینے کی روایت رہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ ماں اور بچے کی صحت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا جائے گا۔ تھائی مامن تھنگا موتھیرم اسکیم کا فائدہ لینے کے لیے بچے کی پیدائش تمل ناڈو کے سرکاری اسپتالوں میں ہونی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی بچے کی ماں کا تمل ناڈو کا مستقل رہائشی ہونا ضروری ہے۔ ماں کا حمل اور شیر خوار بچے کی نگرانی کے نظام (پی آئی سی ایم ای) میں رجسٹریشن اور تولیدی و اطفال صحت (آر سی ایچ) آئی ڈی ہونا بھی ضروری ہے۔ اس طرح اسکیم کی اہلیت ریاست میں پہلے سے موجود حمل، زچگی اور شیر خوار بچے کی صحت کی نگرانی کے نظام سے منسلک ہے۔

22 جون سے 27 ستمبر کے درمیان سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو انگوٹھیاں دینے کے لیے ریاست میں 107 مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے پہلے سے موجود مستحقین کو انگوٹھیاں تقسیم کی جائیں گی۔ ہر مرکز پر روزانہ تقریباً 100 بچوں کو انگوٹھی دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ وہیں اس اسکیم کے شروع ہونے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کو اسپتال سے چھٹی ملنے کے وقت سونے کی انگوٹھی دی جائے گی۔ تمل ناڈو حکومت نے اس اسکیم کے لیے سالانہ 755.83 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ پورے سال میں تقریباً 4.41 لاکھ ایک گرام کی 22 کیرٹ سونے کی انگوٹھیاں تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے۔

حالانکہ مدورانتکم اور دھاراپورم اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخاب کی وجہ سے وہاں فی الحال اس اسکیم کا آغاز نہیں کیا جائے گا۔ تمل ناڈو حکومت کے مطابق ریاست میں ہر سال تقریباً 7.8 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ ان میں تقریباً 4.20 لاکھ یعنی تقریباً 53 فیصد بچوں کی پیدائش سرکاری اسپتالوں میں ہوتی ہے۔ حکومت کا مقصد سرکاری صحت کے اداروں میں ولادت کو مزید فروغ دینا اور ماں اور بچے کی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔