قومی خبریں

سونے کی قیمت میں 2 ہزار روپئے سے زیادہ اُچھال، چاندی نے بھی دکھائے سخت تیور

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھراضافہ دیکھا گیا ہے۔ 30 مارچ کو24 قیراط سونے کی قیمت 1 لاکھ 46 ہزار روپئے فی 10 گرام سے تجاوز کر گئی ہے۔ وہیں چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سونے چاندی کی قیمتیں/ آئی اے این ایس</p></div>

سونے چاندی کی قیمتیں/ آئی اے این ایس

 
U Aung

 مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے سبب پیر کے روز بھی بازار میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران سبھی کی نظریں قیمتی دھاتوں سونے اور چاندی پر مرکٰوز رہیں جہاں قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آنے سے سرمایہ کاروں کو خوش ہونے کا موقع ملا وہیں خریداروں کے چہرے مُرجھائے نظرآئے۔

Published: undefined

ہندوستانی صرافہ بازار میں 30 مارچ 2026 کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط والے 10 گرام سونے کی قیمت 1 لاکھ 46 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے جو گزشتہ کاروباری دن جمعہ یعنی 27 مارچ کی شام کو 1 لاکھ 34 ہزار روپئے فی 10 گرام کے قریب تھی۔ وہیں چاندی کی شرح میں بھی بھاری تیزی آئی ہے۔

Published: undefined

پیر کے روز(30 مارچ 2026) صبحibjarates.com  پرجاری کی گئی شرح کے مطابق 995 خالص والے یعنی 23 قیراط سونے کی قیمت 145631 روپے فی 10 گرام ہے جب کہ 916 خالص والے یعنی 22 قیراط سونے کی قیمت 133935 روپے فی 10 گرام ہے۔ انڈین بلین جیولرز ایسوسی ایشن کی آفیشل ویب سائٹ ibjarates.com پر پیر سے جمعہ ہر روز صبح اور شام سونے اور چاندی کی قیمتوں کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ان قیمتوں میں جی ایس ٹی شامل نہیں ہوتا ہے اور زیورات کی خریداری پر میکنگ چارجز الگ سے دینا ہوتا ہے۔

Published: undefined

اس کے علاوہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیر کو مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کیا ہے، جس سے اس سال امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات میں کمی آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق شرح سود کے حوالے سے مارکیٹ کے جذبات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ جبکہ اس سے پہلے اس سال دو شرحوں میں کمی کی توقع تھی لیکن اب تاجر اس کا امکان بہت کم سمجھتے ہیں۔ توانائی کی اونچی قیمتیں افراط زر کو بڑھا سکتی ہیں، جس سے ایف ای ڈی کے لیے پالیسی کو آسان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined