قومی خبریں

گوا ایس آئی آر: بامبے ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی عرضی کو کیا خارج، 6 حذف کردہ ووٹرز کے نام جوڑنے کی ہدایت

عدالت نے اپنے حکم میں الیکشن کمیشن کو نصیحت کی کہ وہ ایک ایسے ادارے کی حیثیت رکھتا ہے جس کی سب سے اہم آئینی ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل شہری اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔

<div class="paragraphs"><p>بامبے ہائی کورٹ</p></div>

بامبے ہائی کورٹ

 

بامبے ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو حکم دیا ہے کہ وہ گوا کے رہنے والے پریش سالگاؤںکر اور ان کے اہل خانہ کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرے، جنہیں ایس آئی آر کے دوران فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے 6 ووٹرز کے نام دوبارہ شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے اس حکم کو سیاسی اعتبار سے کافی اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔

جمعرات کو گوا بنچ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران خارج کیے گئے 6 ووٹرز کے نام دوبارہ شامل کرے۔ اس معاملے میں 4 دن تک سماعت ہوئی۔ جسٹس والمیکی مینیزیز اور جسٹس امیت جامسندیکر کی ڈویژن بنچ نے جمعرات کو اپنا یہ فیصلہ سنایا۔ یہ حکم ان ووٹرز کی عرضیوں پر دیا گیا ہے، جنہوں نے ووٹر لسٹ سے اپنے نام خارج کیے جانے اور فارم-8 مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے ایک حکم کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے اس معاملے کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس حکم میں ہائی کورٹ سے کہا گیا تھا کہ وہ رٹ عرضیوں پر کارروائی عارضی طور پر روک دے۔ الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ گوا میں دائر چیلنج کا تعلق ایس آئی آر کے پورے عمل سے ہے۔ اس میں ووٹرز کے نام خارج کرنے کا عمل بھی شامل ہے۔

بہرحال، ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ وہ سانتا کروز انتخابی حلقہ کے پریش سالگاؤںکر اور ان کے خاندان کے 5 افراد کے نام، پتے کی تصدیق کے بعد 10 دن کے اندر بحال کرے۔ پتے کی تبدیلی کے لیے فارم-8 جمع کرانے کے باوجود ایس آئی آر کے دوران ان کے نام خارج کر دیے گئے تھے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔ بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل عدالت نے ابتدائی طور پر یہ مانا تھا کہ موجودہ کارروائی کا تعلق دوسری جگہوں پر جاری ایس آئی آر کو چیلنج کرنے والے معاملے سے مختلف ہے۔ ہائی کورٹ نے خودکار نظام پر بھی الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس خودکار نظام کے تحت پتے کی تبدیلی کے بعد ووٹر لسٹ سے نام براہ راست خارج ہو جاتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ ووٹروں سے ان کے پرانے پتے کے لیے اینومریشن فارم (گنتی کا فارم) پر دستخط کرانا انہیں غلط اعلان کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔

اس دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ قانونی کارروائی بیرونی عوامی تاثر کے بجائے مکمل طور پر قانونی ضابطوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ عدالت نے ایک ایسی پیچیدہ صورت حال کی جانب بھی اشارہ کیا، جس میں دوسری جگہ منتقل ہونے والے ووٹرز کے فارم-8 مسترد کر دیے جاتے ہیں۔ ایسے ووٹرز کو مجبوراً فارم-6 بھرنا پڑتا ہے۔ اس فارم میں انہیں یہ غلط اعلان کرنا پڑتا ہے کہ وہ کہیں اور رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ قانونی ضابطوں کے مطابق ووٹر لسٹ سے کسی کا نام خارج کرنے سے پہلے اسے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا لازمی ہے۔ نظرثانی کے عمل کے دوران اس شرط کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے اپنے حکم میں الیکشن کمیشن کو نصیحت کی کہ وہ ایک ایسے ادارے کی حیثیت رکھتا ہے جس کی سب سے اہم آئینی ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل شہری اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔ ڈرافٹ ایس آئی آر میں نام موجود نہ ہونا، نام خارج کیے جانے کے بجائے نام شامل نہ ہونے کا معاملہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔